خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 78 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 78

خطبات مسرور جلد 13 78 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2015ء یاد دہانیاں بھی استعدادوں کو چمکا دیتی ہیں یا ان کو بہتر کرنے کا موجب بنتی ہیں۔نمازوں میں حاضری بڑھنا بتاتا ہے کہ طاقت سے بڑھ کر تکلیف کی وجہ سے مسجد میں آنا روک نہیں تھا بلکہ ستی نے استعداد یا اہمیت کا اندازہ نہ ہونے دیا اور اس وجہ سے پھر استعداد کو زنگ لگ گیا اور آہستہ آہستہ وہ مسجد میں آنے میں ست ہو گئے۔پس ذراسی کوشش سے ست لوگ اپنی غفلت دُور کر سکتے ہیں۔اس لئے گزشتہ دنوں جب میں نے خاص طور پر بعض تربیتی کاموں کی طرف امام صاحب، عطاء المجیب راشد صاحب کو توجہ دلائی تو یہ بھی کہا تھا کہ یہ بھی افراد جماعت کو کہیں کہ ایک دوسرے کو مسجد میں لانے میں مدد کریں۔یہاں اگر فاصلے زیادہ ہیں تو ہمسائے اپنی سواری بدل بدل کر استعمال کر سکتے ہیں تاکہ کسی پر پٹرول کے خرچ کا بوجھ بھی نہ پڑے۔بعض لوگ پہلے بھی اس طرح کرتے ہیں۔جنھم کے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ صبح فجر کی نماز پر ان کے دوست دس منٹ پہلے فون کر دیتے ہیں کہ میں اتنے منٹ بعد پہنچ رہا ہوں۔فجر کی نماز کے لئے تیار رہیں۔اگر اس طرح آپس میں ایک دوسرے کو کہ دیں تو مسجد کی حاضری کافی بہتر ہوسکتی ہے۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ہر بات سے ہر ایک یکساں فائدہ نہیں اٹھاتا۔یاد دہانی کی ضرورت رہتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ہر ایک اپنی اپنی استعداد کے مطابق بات جذب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔بعض خود کوشش کرتے ہیں۔بعض سہارے تلاش کر کے بہتر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔بعض کے لئے خود سہارا بننا پڑتا ہے تا کہ جو افراد کی استعدادوں کی ترقی ہے وہ بھی حاصل ہو اور جماعتی معیاروں کی ترقی بھی حاصل ہو۔اس لئے بہر حال نظام جماعت کو بھی اور افراد کو بھی جو بہتر ہیں، اپنا حق ادا کرنا چاہئے۔توجہ کی بات ہو رہی ہے تو پھر خطبات میں بھی تو جہ قائم رکھنی چاہئے۔خطبوں کے دوران بعض دفعہ میں نے بھی دیکھا ہے، بعض خود بھی محسوس کرتے ہوں گے کہ بعض دفعہ لوگ اونگھ جاتے ہیں اور صرف اونگھ نہیں جاتے بلکہ اتنی گہری نیند میں چلے جاتے ہیں کہ جھٹکا کھا کر ساتھ والے پہ گرتے ہیں۔اس بیچارے کو پھر ٹھوکر لگانی پڑتی ہے۔تو ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں۔پھر بعض ایسے بھی ہیں جن کی شنوائی کم ہوتی ہے۔صحیح طرح سن نہیں سکتے۔مطلب نہیں اخذ کر سکتے۔بعض اپنی سوچوں میں گم ہو جاتے ہیں۔تو ایسے مختلف قسموں کے لوگ جو ہیں ان کے لئے صرف فرض کر لینا کہ انہوں نے خطبہ سن لیا یا تقریر سن لی اس میں کیا اثر ہو سکتا ہے۔بہر حال ان کے لئے یاد دہانی اور توجہ کی ضرورت ہے جیسا کہ میں نے کہا جو بعد میں کرائی جاتی رہنی چاہئے۔جلسوں کے دوران تو شاید بعض لوگ اس لئے بھی نعرہ لگا دیتے ہیں کہ ارد گرد بیٹھے ہوؤں کو اونگھتا ہوا دیکھتے ہیں یا اپنی نیند مثانی چاہتے ہیں تو بہر حال تقریر سننا، خطبہ سننا،توجہ سے سننا،اسے جذب کرنا ، اس پر عمل کرنا یہ سب باتیں ہر ایک کی اپنی اپنی استعدادوں پر منحصر ہیں