خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 541 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 541

خطبات مسرور جلد 13 541 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء تفصیلی ذکر میں نے اس لئے کر دیا کہ یہ بات خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے افراد پر بھی بہت بڑی ذمہ داری ڈالتی ہے کہ اپنی اس ذمہ داری کو بھی سمجھیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی ہمیشہ ہر وقت سامنے رکھیں کہ ہماری طرف منسوب ہو کر پھر ہمیں بدنام نہ کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 7 صفحہ 188 ) پس صرف نسل ہونا ہی بڑائی نہیں بلکہ آپ کی تعلیم پر عمل کرنا اور آپ کے ساتھ منسوب ہو کر آپ کی عزت واحترام اور جو مقام ہے اس کو قائم کرنا بھی سب کا فرض ہے۔اللہ تعالیٰ اس خاندان کو اس کی بھی توفیق عطا فرمائے ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے۔جب تقسیم ہند ہوئی ہے، پاکستان بنا ہے اس وقت آپ کو اسی بس میں سفر کرنے کا اعزاز ملاجس میں حضرت اماں جان اور خاندان کی بعض دوسری خواتین سفر کر رہی تھیں اور پھر لاہور پہنچ کر ابتدائی دنوں میں رتن باغ میں ان کا قیام رہا جہاں حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قیام تھا۔اس کے بعد بھی آپ ہمیشہ لاہور ہی رہیں۔آپ کی بہت بڑی خصوصیت غریب پروری اور مہمان نوازی تھی اور بڑی بے تکلف طبیعت کی مالک تھیں۔ان کا گھر جو تھا اکثر مہمانوں سے ہر وقت بھرا رہتا تھا۔کسی بھی قسم کا کوئی مہمان آجائے چاہے وہ عزیز رشتے دار ہو، کوئی دوست ہو، غیر ہو، غریب ہو، بہترین طریقے سے اس کی مہمان نوازی کیا کرتی تھیں اور یہ ان میں بہت بڑا وصف تھا اور بڑی عزت و احترام سے پیش آیا کرتی تھیں۔پھر اسی طرح آپ کا حلقہ بڑا وسیع تھا۔خاندان کے علاوہ بھی لوگوں سے، جماعت کے ہر فرد سے بڑے وسیع تعلقات تھے۔جن جن سے ان کا واسطہ پڑا وہ ان کا گرویدہ ہو گیا۔پھر اسی طرح مالیر کوٹلہ کے جو غیر احمدی رشتے دار تھے ان سے بھی آپ نے ہمیشہ تعلق رکھا اور نبھایا۔بعض تو عارضی مہمان آتے ہیں۔پھر مستقل مہمان بھی ، خاندان کے افراد بھی ، نوجوان لڑکے لڑکیاں جب لاہور میں کالج میں، یونیورسٹیوں میں پڑھتے تھے اور اسی طرح بہت سارے دوسرے بھی میں نے دیکھا ہے آپ کے گھر رہتے تھے اور آپ کی مہمان نوازی با قاعدہ ان کے لئے بھی بڑے کھلے دل کے ساتھ چلتی تھی۔اور یہ نہیں کہ کوئی (خاص) وقت ہے جب بھی پہنچ جاؤ فوری طور پر مہمان نوازی کے لئے تیار ہوتی تھیں۔اسی طرح حضرت مصلح موعودؓ کی زندگی کے بہت سارے تاریخی واقعات بھی آپ کے علم میں تھے جو آپ اپنے عزیزوں کو سناتی تھیں اور یہ محفوظ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو کشائش عطا فرمائی تو اس کو آپ نے ہمیشہ غریبوں کی خدمت میں، غریبوں کے لئے استعمال کیا۔بہت سارے بچوں کی تعلیم کے اخراجات برداشت کئے۔شادیوں پر بڑے کھلے دل سے دیا کرتی تھیں۔اسی طرح اپنے میاں عباس احمد