خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 184
خطبات مسرور جلد 13 184 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء کو گرہن درمیان کی تاریخ میں لگے گا“۔فرمایا حالانکہ اس کسوف خسوف میں چاند کو گرہن تیرھویں رات میں لگا اور سورج کو گرہن اٹھائیس تاریخ کو لگا۔اور جب ان کو سمجھایا گیا کہ حدیث میں مہینے کی پہلی تاریخ مراد نہیں اور پہلی تاریخ کے چاند کو قمر نہیں کہہ سکتے اس کا نام تو ہلال ہے اور حدیث میں قمر کا لفظ ہے نہ ہلال کا لفظ۔سوحدیث کے معنی یہ ہیں کہ چاند کو اس پہلی رات میں گرہن لگے گا جو اُس کے گرہن کی راتوں میں سے پہلی رات ہے۔یعنی مہینے کی تیرھویں رات۔اور سورج کو درمیان کے دن میں گرہن لگے گا یعنی اٹھائیں تاریخ جو اس کے گرہن کے دنوں میں سے درمیانی دن ہے۔تب یہ نادان مولوی اس صحیح معنے کوسن کر بہت شرمندہ ہوئے اور پھر بڑی جانکا ہی سے یہ دوسرا عذر بنایا کہ حدیث کے رجال میں سے ایک راوی اچھا آدمی نہیں ہے۔( یعنی جو روایت کرنے والے تھے ان میں سے ایک راوی اچھا نہیں تھا۔) تب ان کو کہا گیا کہ جبکہ حدیث کی پیشگوئی پوری ہوگئی تو وہ جرح جس کی بناء شک پر ہے اس یقینی واقعہ کے مقابل پر جو حدیث کی صحت پر ایک قوی دلیل ہے کچھ چیز ہی نہیں۔یعنی پیشگوئی کا پورا ہونا یہ گواہی دے رہا ہے کہ یہ صادق کا کلام ہے اور اب یہ کہنا کہ وہ صادق نہیں بلکہ کاذب ہے بدیہیات کے انکار کے حکم میں ہے اور ہمیشہ سے یہی اصول محدثین کا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ شک یقین کو رفع نہیں کرسکتا۔پیشگوئی کا اپنے مفہوم کے مطابق ایک مدعی مہدویت کے زمانہ میں پوری ہو جانا اس بات پر یقینی گواہی ہے کہ جس کے منہ سے یہ کلمات نکلے تھے اس نے سچ بولا ہے۔لیکن یہ کہنا اس کی چال چلن میں ہمیں کلام ہے۔( یعنی مدعی کے ) یہ ایک ٹنگی امر ہے اور کبھی کا ذب بھی سچ بولتا ہے ( یعنی کبھی جھوٹا بھی سچ بول سکتا ہے۔ماسوا اس کے یہ پیشگوئی اور طرق سے بھی ثابت ہے اور حنفیوں کے بعض اکابر نے بھی اس کو لکھا ہے تو پھر ا نکار شرط انصاف نہیں ہے بلکہ سراسر ہٹ دھرمی ہے۔اور اس دندان شکن جواب کے بعد انہیں یہ کہنا پڑا کہ یہ حدیث تو صحیح ہے اور اس سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ عنقریب امام موعود ظاہر ہوگا مگر یہ شخص امام موعود نہیں ہے ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) بلکہ وہ اور ہوگا جو بعد اس کے عنقریب ظاہر ہو گا۔مگر یہ ان کا جواب بھی بودا اور باطل ثابت ہوا کیونکہ اگر کوئی اور امام ہوتا تو جیسا کہ حدیث کا مفہوم ہے وہ امام صدی کے سر پر آنا چاہئے تھا مگر صدی سے بھی پندرہ برس گزر گئے اور کوئی امام ان کا ظاہر نہ ہوا۔اب ان لوگوں کی طرف سے آخری جواب یہ ہے کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ان کی کتابیں مت دیکھو۔ان سے ملاپ مت رکھو۔ان کی بات مت سنو کہ ان کی باتیں دلوں میں اثر کرتی ہیں۔لیکن کس قدر عبرت کی جگہ ہے کہ آسمان بھی ان کے مخالف ہو گیا اور زمین کی حالت موجودہ بھی مخالف ہو گئی۔یہ کس قدر ان کی ذلت ہے کہ ایک طرف آسمان ان کے مخالف گواہی دے رہا ہے اور ایک طرف