خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 183
خطبات مسرور جلد 13 183 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 مارچ 2015ء یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تجھے کیا علم ہے؟ تو مومن یا یقین رکھنے والا جو ہے، (اسماء کہتی ہیں دونوں میں سے کوئی ایک لفظ استعمال ہوا ) کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔آپ ہمارے پاس نشانات اور ہدایت لے کر آئے ہم نے آپ کو قبول کیا اور ایمان لائے اور آپ کی پیروی کی۔اسے کہا جائے گا تو عمدہ نیند سو جا۔ہمیں پتا ہے کہ تو یقیناً ایمان رکھنے والا تھا۔اور جو شخص منافق یا شبہ رکھنے والا تھا وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں کہے گا میں نہیں جانتا، کیا ہیں۔میں نے تو لوگوں کو سناوہ ایک بات کہتے تھے میں نے بھی ہاں کہہ دی۔(صحیح البخاری کتاب الكسوف باب صلاة النساء مع الرجل حديث: 1053) اسی طرح آپ نے یہ بھی فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک نشان ہے۔اس کا کسی کی زندگی اور موت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اس میں دعا کرنی چاہئے۔استغفار کرنا چاہئے۔(صحیح مسلم کتاب الکسوف و صلاته باب ذكر النداء بصلاة الكسوف۔۔۔حديث: 2117) اب میں چاند سورج گرہن کی پیشگوئی کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ: حضرت مسیح موعود کی تائید میں نشان پرنشان مجھے بڑا تعجب ہے کہ باوجود یکہ نشان پر نشان ظاہر ہوتے جاتے ہیں مگر پھر بھی مولویوں کو سچائی کے قبول کرنے کی طرف توجہ نہیں۔وہ یہ بھی نہیں دیکھتے کہ ہر میدان میں خدا تعالیٰ ان کو شکست دیتا ہے اور وہ بہت ہی چاہتے ہیں کہ کسی قسم کی تائید الہی ان کی نسبت بھی ثابت ہومگر بجائے تائید کے دن بدن ان کا خذلان اور ان کا نا مراد ہونا ثابت ہوتا جاتا ہے۔( یعنی ان کی بدنصیبی اور نامرادی ثابت ہوتی ہے۔) مثلاً جن دنوں میں جنتریوں کے ذریعہ سے یہ مشہور ہوا تھا کہ حال کے رمضان میں سورج اور چاند دونوں کو گر ہن لگے گا اور لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ یہ امام موعود کے ظہور کا نشان ہے تو اس وقت مولویوں کے دلوں میں یہ دھڑ کا شروع ہو گیا تھا کہ مہدی اور مسیح ہونے کا مدعی تو یہی ایک شخص میدان میں کھڑا ہے۔ایسا نہ ہو کہ لوگ اس کی طرف جھک جائیں۔تب اس نشان کے چھپانے کے لئے اول تو بعض نے یہ کہنا شروع کیا کہ اس رمضان میں ہر گز کسوف خسوف نہیں ہوگا بلکہ اس وقت ہوگا کہ جب ان کے امام مہدی ظہور فرما ہوں گے۔اور جب رمضان میں خسوف کسوف ہو چکا تو پھر یہ بہانہ پیش کیا کہ یہ کسوف خسوف حدیث کے لفظوں کے مطابق نہیں کیونکہ حدیث میں یہ ہے کہ چاند کوگر ہن اوّل رات میں لگے گا اور سورج