خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 85
خطبات مسرور جلد 13 85 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء پڑھنا ایک انتہا درجہ کی خوبصورت چیز ہے مگر جب ہم اپنی غفلت اور نادانی کی وجہ سے اس کو چھانٹتے چلے جائیں تو وہ بے فائدہ اور لغو چیز بن جاتی ہے۔( نماز کی خوبصورتی اس کو سنوار کر پڑھنے میں ہے لیکن اگر سنوار کر نہ پڑھیں تو پھر وہ لغو چیز ہو جاتی ہے ) اور ایسی نماز کبھی با برکت نہیں ہوسکتی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ لوگ نماز اس طرح پڑھتے ہیں جس طرح مرغ ٹھونگے مار کر دانے چگتے ہیں۔ایسی نماز یقیناً کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی بلکہ بعض دفعہ ایسی نماز (ماخوذ از الفضل 20 مئی 1939 صفحہ 4 جلد 27 نمبر 115) لعنت کا موجب بن جاتی ہے۔عہدیداران کیلئے ایک ضروری نصیحت ایک دفعہ کسی نے حضرت مصلح موعودؓ کو شکایت کی کہ ماتحت ہمیں سلام نہیں کرتے یا چھوٹے جو ہیں وہ بڑوں کو سلام نہیں کرتے۔اس پر آپ نے یہ نصیحت فرمائی کہ سلام کرنے کا حکم دونوں کے لئے یکساں ہے۔ایک جیسا ہے۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک شعر سنا ہوا ہے کہ:۔وہ نہ آئے تو تو ہی چل اے میر تیری کیا اس میں شان گھٹتی ہے فرماتے ہیں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ایک بھائی نہیں مانتا تو کیوں نہ ہم خود اس پر عمل کرلیں۔پس اگر شکایت درست ہے تو ی فعل عقل کے خلاف اور اخلاق سے گرا ہوا ہے۔یہ کہیں حکم نہیں کہ سلام صرف چھوٹا کرے، بڑا نہ کرے۔اگر ماتحت نے نہیں کیا تو افسر خود پہلے کر دے۔فرماتے ہیں کہ ” میرا اپنا یہ طریق ہے کہ جب خیال ہوتا ہے تو میں خود پہلے سلام کہ دیتا ہوں۔بعض دفعہ خیال نہیں ہوتا تو دوسرا کہہ دیتا ہے۔فرماتے ہیں ایسی باتوں میں ناظروں کو اعتراض کرنے کی بجائے خود نمونہ بننا چاہئے۔“ (خطبات محمود جلد 22 صفحہ 173 ) پس ہمارے ہر عہدیدار کو چاہیے وہ جس بھی سطح کے عہد یدار ہیں، چاہئے کہ اپنے نمونے قائم کریں۔سلام کرنے میں پہل کریں۔ضروری نہیں ہے کہ انتظار کریں کہ چھوٹا یا ماتحت مجھے سلام کرے۔بعض بڑے یا عہد یدار ایسے بھی ہیں جو سلام کا جواب بھی مشکل سے دیتے ہیں ایسی بھی شکایتیں میرے پاس آتی ہیں۔تو افسروں کو اگر شکوہ ہے تو لوگوں کو بھی شکوہ ہوتا ہے کہ سلام کا جواب نہیں دیتے یا اتنی ہلکی ( آواز سے ) منہ میں دیتے ہیں کہ ان کو سمجھ نہیں آتی یا ایسی بے اعتنائی سے دے