خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 86 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 86

خطبات مسرور جلد 13 86 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء رہے ہوتے ہیں کہ لگتا ہے کیا مصیبت پڑ گئی۔بہر حال جماعت کے اندر ہر طبقے کو سلام کو رواج دینا چاہئے۔یہ حدیث بھی ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان انه لا يدخل الجنة الا المومنون۔۔۔حدیث نمبر (194) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مخالفت آپ کے زمانے میں کس طرح لوگ کیا کرتے تھے اس کا ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے آپ بیان فرماتے ہیں کہ اکتوبر 1897 ء میں آپ کو ایک شہادت پر ملتان جانا پڑا۔وہاں سے شہادت دے کر جب واپس تشریف لائے تو کچھ دنوں کے لئے لاہور بھی ٹھہرے۔یہاں جن جن گلیوں سے آپ گزرتے ان میں لوگ آپ کو گالیاں دیتے اور پکار پکار کر برے الفاظ آپ کی شان میں نکالتے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ) میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی اور میں بھی اس سفر میں آپ کے ساتھ تھا۔میں اس مخالفت کی جولوگ آپ سے کرتے تھے وجہ تو نہیں سمجھ سکتا تھا اس لئے یہ دیکھ کر مجھے سخت تعجب آتا کہ جہاں سے بھی آپ گزرتے ہیں لوگ آپ کے پیچھے کیوں تالیاں پیٹتے ہیں، سیٹیاں بجاتے ہیں۔چنانچہ مجھے یاد ہے کہ ایک ٹنڈ شخص جس کا ایک ہاتھ کٹا ہوا تھا اور بقیہ ہاتھ پر کپڑا بندھا ہوا تھا۔نہیں معلوم ہاتھ کے کٹنے کا ہی زخم باقی تھا یا کوئی نیا زخم تھا۔بہر حال وہ زخمی ہاتھ تھا۔وہ بھی لوگوں میں شامل ہو کر غالباً مسجد وزیر خان کی سیڑھیوں پر کھڑا تالیاں پیٹتا تھا اور اپنا کٹا ہوا ہاتھ دوسرے ہاتھ پر مارتا تھا اور دوسروں کے ساتھ مل کر شور مچار ہا تھا کہ ہائے ہائے مرزائٹھ گیا۔یعنی میدان مقابلہ سے فرار ہو گئے۔نعوذ باللہ۔اور میں اس نظارے کو دیکھ کر سخت حیران تھا خصوصاً اس شخص پر جس کا ہاتھ ہی نہیں ہے اور وہ تالیاں بجانے کی کوشش کر رہا ہے اور دیر تک گاڑی سے سر نکال کر اس شخص کو دیکھتا رہا۔لاہور سے پھر حضرت مسیح موعود قادیان تشریف لے آئے۔(ماخوذ از سیرت مسیح موعود۔انوار العلوم جلد 3 صفحہ 360) مقدمات میں آپ کا صبر و استقلال ایک مقدمے میں مجسٹریٹ کی یہ پکی نیت تھی بلکہ اس سے عہد لیا گیا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ضرور سزا دینی ہے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے ایک جگہ فرمایا۔آپ نے پہلے تمہید باندھی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کی مردم شماری کرائی تو ان کی تعداد سات سو تھی۔صحابہ نے خیال کیا کہ شاید آپ ﷺ نے اس واسطے مردم شماری کرائی ہے کہ آپ کو خیال ہے