خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 84
خطبات مسرور جلد 13 84 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 فروری 2015ء آپ کے خلاف یکطرفہ ڈگری کر دیتا۔مگر اللہ تعالیٰ کو آپ کی یہ بات ایسی پسند آئی کہ اللہ تعالیٰ نے مجسٹریٹ کی توجہ اس طرف کروائی کہ یہ نماز پڑھ رہے ہیں عبادت کر رہے ہیں اور اس نے آپ کی غیر حاضری کو نظر انداز کر کے فیصلہ آپ کے حق میں یا آپ کے والد صاحب کے حق میں کر دیا۔(ماخوذ از دعوۃ الامیر۔انوار العلوم جلد 7 صفحہ 575) اپنے تو مقدمے ہوتے نہیں تھے۔جائیدادوں کے مقدمے تھے۔اگر کبھی مجبوری سے جانا پڑے تو والد صاحب کی وجہ سے ہی جایا کرتے تھے۔پھر ایک جگہ نماز با جماعت کی مزید اہمیت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طریق کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔کس طرح ہمیں نماز باجماعت کی عادت ڈالنی چاہئے۔نماز با جماعت کی یہ ترکیب ہے کہ بیوی بچوں کو ساتھ لے کر جماعت کرالی جائے۔تو عادت نہ ہونے کی وجہ سے باجماعت نماز کی قیمت لوگوں کے دلوں میں نہیں رہی۔کیونکہ باجماعت نماز کی عادت نہیں ہے اس لئے یہ اندازہ ہی نہیں رہا کہ باجماعت نماز کی کس قدر قیمت ہے۔اس عادت کو ترک کر کے یعنی جو علیحدہ نماز پڑھنے کی عادت ہے اس کو ترک کر کے ”نماز با جماعت کی عادت ڈالنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسے مواقع پر جب نماز کے لئے مسجد میں نہ جا سکتے تھے تو گھر میں ہی جماعت کرالیا کرتے تھے اور شاذ ہی کسی مجبوری کے ماتحت الگ نماز پڑھتے تھے۔اکثر ہماری والدہ کو ساتھ ملا کر جماعت کرالیتے تھے۔والدہ کے ساتھ دوسری مستورات بھی شامل ہو جاتی تھیں۔پس اول تو ہر جگہ دوستوں کو جماعت کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنی چاہئے اور جس کو یہ موقع نہ ہو اسے چاہئے کہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہی مل کر نماز با جماعت کرالیا کرے۔ہر جگہ دوستوں کو نماز با جماعت کا انتظام کرنا چاہئے۔جہاں شہر بڑا ہو۔اور دوست دور دور رہتے ہوں۔وہاں محلہ دار جو ہیں ان کو ” جماعت کا انتظام کرنا چاہئے۔جہاں مساجد نہیں ہیں وہاں مساجد بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔“ 66 بعض اہم اور ضروری امور۔انوار العلوم جلد 16 صفحہ 493) بہر حال نماز با جماعت کی اہمیت یہ ہے کہ اگر گھروں میں بھی ہوں تو بچوں کو ساتھ ملا کر نماز پڑھا کریں تا کہ بچوں میں بھی نماز با جماعت کا احساس رہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس بات کی بڑی تلقین فرمائی کہ نماز اپنی تمام تر شرائط کے (ماخوذ از ملفوظات جلد اوّل صفحہ 433 ساتھ پڑھا کریں۔حضرت مصلح موعود نے اس بارے میں فرمایا کہ: تمام قیود اور پابندیوں کے ساتھ نماز