خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 773 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 773

خطبات مسرور جلد 13 773 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء بہر حال مہمان نوازی کرنے والے اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہر طرح مہمان نوازی کی جائے لیکن پھر بھی کمیاں رہ جاتی ہیں تو جیسا کہ میں نے کہا کہ آج بھی قادیان آنے والے یا کہیں بھی جلسے پر جانے والے یا درکھیں کہ انتظامی لحاظ سے بعض تکلیفیں اگر پہنچیں تو خوشی سے برداشت کر لیں اور اس کو اپنے ایمان کی ٹھوکر کا باعث نہ بنائیں۔اللہ تعالیٰ قادیان کے جلسہ کے بھی اور باقی جلسوں کے بھی یہ تمام دن اپنے فضلوں اور برکتوں سے گزارے اور ان کا اختتام فرمائے اور ہر جلسہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور برکتوں کو سمیٹنے والا ہو اور سب شاملین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعاؤں کے وارث بھی بنیں اور خود بھی ان دنوں میں بہت دعائیں کریں۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ روس میں قرغیزستان میں جو پہلے روس کی ریاست تھی وہاں ایک ہمارے احمدی کو شہید کر دیا گیا ہے جن کا نام یونس عبدل جلیلوف ہے۔22 دسمبر کو 05 : 8 منٹ پر قرغیزستان کے مغرب میں واقع گاؤں ہے کاشغر کشتاک یہاں دو افراد نے فائرنگ کی جس کے نتیجہ میں موصوف شہید ہو گئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔اپنے گھر کے باہر یونس صاحب ایک ہمسائے کے ساتھ کھڑے تھے کہ دو افراد کار میں آئے اور انہوں نے یونس صاحب پر گولیاں چلانی شروع کر دیں۔بارہ گولیاں چلائیں جن میں سے سات گولیاں یونس صاحب کے جسم سے آر پار ہو گئیں۔دو گولیاں جسم میں رہ گئیں۔حملہ آوروں نے یونس صاحب کے ساتھ کھڑے ان کے ہمسائے پر فائرنگ نہیں کی۔صرف یونس صاحب کو نشانہ بنا کر بھاگ گئے۔بہر حال ان کو ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہاں ان کی وفات ہوگئی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کے والد اور بھائی غیر احمدی ہیں۔ان کے رشتہ داروں نے اپنے کسی جاننے والے مولوی سے ہی جنازہ پڑھایا۔اس وقت احمدی پہنچ نہیں سکے تھے۔اس (مولوی) نے یہ بھی کہا کہ یہ موت نہایت ظالمانہ طریق پر ہوئی ہے۔ہم سب اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس طرح کسی بندے کو قتل کرنا اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔بعد میں احمدی پہنچے تو نماز جنازہ غائب وہاں پر ان کے گھر میں ہی ادا کی گئی۔کیونکہ کچھ نہ کچھ مخالفت تو تھی۔اس لئے یہ بھی خطرہ تھا کہ ان کے احمدی ہونے کی وجہ سے مولوی شور مچائیں گے اور قبرستان میں تدفین نہیں ہونے دیں گے۔لیکن اللہ کے فضل سے امن و امان سے تدفین بھی ہو گئی۔اب وہاں کی جو کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ ہے وہ پولیس اہلکار آئے اور جماعت کے بعض افراد کو اپنے دفتر لے گئے۔وہاں ان کو مکمل طور پر معلومات دی گئیں۔جماعت احمدیہ مسلمہ کے بارے میں بتایا گیا۔یہ سن کے وہ لوگ بہت حیران