خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 774 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 774

خطبات مسرور جلد 13 774 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء ہوئے۔کہنے لگے کہ ہم نے تو آپ لوگوں کے بارے میں کچھ اور ہی سن رکھا ہے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ جو کچھ ہو سکا ہم انشاء اللہ اس حقیقت کو سامنے لانے کے لئے کریں گے اور پھر پولیس نے کوشش بھی کی اور بعد میں کچھ دیر کے بعد دو قاتلوں کو انہوں نے پکڑ بھی لیا اور ان کا بھی یہی خیال تھا کہ اس کے بھی ڈانڈے سیر یا کے لوگوں سے جاکے ملتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک آدمی جو یہاں سے سیر یا گیا ہوا ہے وہ وہاں سے آیا تھا اس نے بتایا کہ وہاں چار احمدی افراد ہیں جن کو تم نے قتل کرنا ہے۔پہلے ایک احمدی پر ایک حملہ ہوا تھا۔چاقوؤں سے اس پر وار کئے گئے تھے اور سلاخوں سے مارا گیا۔ان کی ہڈیاں بھی ٹوٹیں۔زخمی بھی ہوئے۔تقریبا مردہ چھوڑ کر چلے گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔یہ دو تین مہینے یا چھ مہینے پہلے کی بات ہے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں صحت دی اور اب وہ ٹھیک ہیں لیکن یہاں ان کو شہید کرنے پر کامیاب ہو گئے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند کرے۔بہر حال پولیس اور بھی پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔اللہ کرے کہ سارے اپنے کیفر کردار تک پہنچیں۔مقامی احمدیوں کا جو رد عمل ہے انہوں نے لکھ کر بھیجا ہے کہ یونس صاحب کے اس طرح ظالمانہ طور پر قتل کئے جانے پر کاشغر کشتاک جماعت کے افراد غمگین بھی ہیں لیکن انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ہم اس شہادت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آنے والے مسیح موعود حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام کے پیغام کو پھیلاتے چلے جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے مضبوط ایمان کے لوگ ہیں۔یونس عبدل جلیلوف (Yunusjan Abdujalilov) صاحب 1978ء میں پیدا ہوئے تھے۔2008ء میں انہوں نے بیعت کی تھی اور ابتدائی احمدیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ان کے رشتہ داروں کی طرف سے بڑی مخالفت بھی ہوئی لیکن یہ عہد بیعت پر قائم رہے۔کہتے ہیں بیعت کے بعد ان میں بڑی غیر معمولی روحانی تبدیلی آئی۔ہر وقت دینی علوم کی تلاش میں رہتے تھے۔اس حوالے سے مبلغین کے ساتھ بھی ہر وقت رابطے میں رہتے تھے اور جب بھی دین کی کوئی نئی بات سیکھتے تو بہت خوش ہوتے۔پنجوقتہ نماز با جماعت کے پابند تھے۔شہادت کے وقت اپنی جماعت کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمت کر رہے تھے۔جماعت کے بڑے ایکٹو (active) ممبر تھے۔اپنے پیچھے انہوں نے اہلیہ، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا سوگوار چھوڑے ہیں۔بڑی بیٹی 9 سال کی۔دوسری بیٹی چھ سال کی۔تیسری تین سال کی اور سب سے چھوٹا بیٹا تین ماہ کا ہے۔