خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 772
خطبات مسرور جلد 13 772 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 دسمبر 2015ء خاص محبت اور اخلاص ہوتا ہے اور انہیں نبی کو دیکھ کر اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور وہ کسی اور بات کی پرواہ نہیں کرتے۔جیسا کہ ہمارے مفتی محمد صادق صاحب کی ایک روایت ہے کہ جلسہ کے ایام میں ایک دفعہ جب حضرت صاحب باہر نکلے تو آپ کے گرد بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ہجوم اکٹھا ہو گیا۔اس ہجوم میں ایک شخص نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور وہاں سے باہر نکل کے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ تم نے مصافحہ کیا ہے یا نہیں؟ ( جو کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔اتنی بھیڑ میں کہاں جگہ مل سکتی ہے۔اس نے کہا جس طرح ہو سکے مصافحہ کرو خواہ تمہارے بدن کی بڑی بڑی کیوں نہ جدا ہو جائے۔یہ موقعے روز روز نہیں ملا کرتے۔چنانچہ وہ گیا اور مصافحہ کر آیا۔غرض نبی کو دیکھ کر انسان کے دل میں ایک خاص قسم کا جوش موجزن ہوتا ہے اور وہ جوش اتنا وسیع ہوتا ہے کہ نبی کے خدمتگاروں کو دیکھ کر بھی اہل پڑتا ہے۔فرماتے ہیں کہ جب حضرت مسیح موعود نماز کے بعد مسجد میں بیٹھتے تو لوگ آپ کے قریب بیٹھنے کے لئے دوڑتے گو اس وقت تھوڑے ہی لوگ ہوتے تھے تاہم ہر ایک یہ چاہتا تھا کہ میں سب سے قریب بیٹھوں۔ایک شخص کے مقدر میں چونکہ ابتلاء تھا اس لئے اسے خیال نہ آیا کہ میں کس شخص کی مجلس میں آیا ہوں۔یہ دوست پشاور سے آیا ہوا تھا۔اس نے سنتیں پڑھنی شروع کردیں اور اتنی لمبی کر دیں کہ پہلے تو کچھ عرصہ لوگ اس کا انتظار کرتے رہے مگر جب انتظار کرنے والوں نے دیکھا کہ دوسرے لوگ ہم سے آگے بڑھتے جاتے ہیں اور قریب کی جگہ حاصل کر رہے ہیں تو وہ بھی جلدی سے آگے بڑھ کر حضرت صاحب کے پاس جا بیٹھے مگر ان کے جلدی کے ساتھ گزرنے سے کسی کی کہنی اُسے لگی جو سنتیں پڑھ رہا تھا۔اس پر وہ سخت ناراض ہو کر کہنے لگا کہ اچھا نبی اور مسیح موعود ہے کہ اس کی مجلس کے لوگ نماز پڑھنے والوں کوٹھوکریں مارتے ہیں۔وہ اتنی بات پر مرتد ہو کر وہاں سے چلا گیا۔گو یا جو چیز ایمان کی ترقی کا باعث ہے اور ہوسکتی ہے وہ اس کے لئے ٹھوکر کا موجب بن گئی اور اس کی مثال اس جماعت کی سی ہو گئی جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب روشنی آئے تو ان کا نور جاتا رہتا ہے۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 11 صفحہ 544-545 - خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 1919ء) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ قادیان آنے والوں کو میں نصیحت کرتا ہوں، جلسے پر آنے والوں کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ کثرت ہجوم اور کام کرنے والوں کی قلت کی وجہ سے اگر آپ کو کوئی تکلیفیں پہنچیں تو پریشان نہ ہو جائیں ، ٹھو کر نہ کھا جائیں۔اس نصیحت کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے۔چاہے یہاں جلسہ ہو ، یا کہیں اور ہور ہے ہوں۔