خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 738
خطبات مسرور جلد 13 738 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء میں تبلیغی کاموں میں وسعت پیدا ہوئی تو 1947 ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مکرم مولانا شیخ مبارک احمد صاحب مرحوم کی مدد کے لئے جو مبلغین بھیجے تھے ان میں چوہدری عنایت اللہ صاحب بھی شامل تھے۔وہاں مختلف جگہوں پر انہوں نے خدمات سرانجام دیں۔اسی طرح جب شیخ مبارک احمد صاحب قرآن کریم کا سواحیلی ترجمہ کر رہے تھے تو اس وقت حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے ان کو جو مددگار مہیا کئے ان میں بھی چوہدری عنایت اللہ صاحب اور مولانا جلال الدین صاحب قمر کو شامل کیا۔اس طرح آپ کو قرآن کریم کے سواحیلی ترجمہ میں کام کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔دارالسلام میں تین سال آپ کو مشنری انچارج کے طور پر خدمت کی توفیق بھی ملی۔ایک دفعہ آپ اپنی ایک جماعت پنگا لے(Pangalay) کی مسجد میں نماز پڑھانے کے لئے سائیکل پر جا رہے تھے تو احمدی احباب نے بتایا کہ غیر احمدی امام اور دیگر لوگوں کا منصوبہ ہے اور امام نے ان کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے کہ مسجد کو جلانا ہے اور وہاں بلوہ کرنا ہے اس لئے آپ پنگا لے نہ جائیں۔اس پر آپ نے بڑا دلیرانہ جواب دیا کہ میں ضرور جاؤں گا اور بہر حال سفر جاری رکھا۔جیسا کہ میں نے کہا سائیکل پر جارہے تھے۔راستے میں ایک جگہ پنگالے کا چیف ملا اور اس نے آپ کو سائیکل پر دیکھا تو اپنی کا ررو کی اور کار میں بیٹھنے کی دعوت دی تو آپ نے کہا کہ نہیں میں سائیکل پر جارہا ہوں ،ٹھیک ہوں۔بہر حال چیف کے اصرار پر آپ اس کی کار میں بیٹھ گئے اور چیف گاؤں میں لے کر آیا اور راستے میں آپ نے چیف کو بتایا کہ جو گاؤں کی صورتحال کی خبر ان کو پہنچی ہے۔اس پر چیف نے تمام لوگوں کو بلایا اور کہا کہ یہ ہمارے مہمان ہیں اور مہمانوں سے بہر حال برا سلوک نہیں ہوگا اور میں ایسا نہیں کرنے دوں گا اور جو بھی ان کی مدد ہووے گی میں کروں گا اور امام کو بھی کافی سرزنش کی۔بلکہ یہ بھی کہا کہ میں ان کے پیچھے نماز پڑھوں گا۔چنانچہ جب نماز کا وقت آیا تو چیف نے ان کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھی۔علاقے کے لوگوں پر بھی ان کا بہت اثر تھا اور بڑے تعلقات وسیع تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسل کو بھی جماعت اور خلافت سے وفا کا تعلق قائم رکھنے کی توفیق دے۔دوسرا جنازہ غائب ہے جو مولوی بشیر احمد صاحب کالا افغانہ مرحوم درویش قادیان کا ہے۔87 سال کی عمر میں 7 دسمبر کو ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مولوی بشیر احمد صاحب کالا افغانہ مرحوم اخبار بدر کے درویش نمبر میں شائع شدہ اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ خاکسار کے گاؤں کے ایک دوست مکرم محمد احمد صاحب کالا افغانہ قادیان آگئے تھے۔میں ڈیرہ بابا نا نک میں امتحان دے کر