خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 739 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 739

خطبات مسرور جلد 13 739 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015 ء ملازمت کی تلاش میں تھا کہ مکرم محمد احمد صاحب نے پیغام بھجوایا کہ میں چونگی کی ملازمت چھوڑ کر دفتر الفضل میں کام کرنا چاہتا ہوں تم میری جگہ چونگی میں لگ جاؤ۔یہ اس وقت احمدی نہیں تھے۔1946ء کی بات ہے۔کہتے ہیں کہ خاکسار اپنے گاؤں سے قادیان آ گیا اور چونگی میں ملازمت شروع کر دی۔جس وقت میں قادیان ملازمت کے لئے آیا اس وقت مجھے احمدیت کے تعلق سے زیادہ معلومات نہیں تھیں۔کہتے ہیں میں نے ایک غیر مسلم دوست کو کہا کہ مجھے نماز کے لئے کوئی ایسی مسجد بتاؤ جو قادیانیوں کی نہ ہو۔میں ان کی مسجد میں نہیں جاسکتا۔اس غیر مسلم نے مجھے مسجد اقصیٰ کا راستہ بتا دیا۔کہتے ہیں میں وہاں گیا۔دیکھا کہ بہت بڑی مسجد ہے کوئی نماز پڑھ رہا ہے کوئی تلاوت کر رہا ہے ، خوبصورت منارہ ہے۔میں دل ہی دل میں خوش ہوا کہ ہماری مسجد تو بہت اچھی ہے، اب میں قادیانیوں کی مسجد میں نہیں جاؤں گا۔تو ایک روز پتا چلا کہ یہ احمدیوں کی مسجد ہے۔کہتے ہیں ایک دن احراریوں کی مسجد میں بھی گیا لیکن وہاں کی حالت دیکھ کر عہد کر لیا کہ اب ہمیشہ میں مسجد اقصیٰ میں ہی نماز ادا کروں گا۔پھر آہستہ آہستہ ان کا ایک احمدی دوست سے تعارف ہوا۔انہوں نے ان کو جماعتی معلومات دیں اور کتاب تبلیغ ہدایت اور دیگر رسائل دیئے جس کے نتیجہ میں کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی۔1947ء میں ملک کی تقسیم ہوئی اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر خدام دور دور سے حفاظت مرکز کے لئے آنے لگے۔اس موقع پر کہتے ہیں کہ خاکسار نے بھی اپنا نام حفاظت مرکز کے لئے پیش کر دیا جس کی منظوری ہوئی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے درویشی میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔کہتے ہیں بیعت کرنے کے بعد میرے عزیز واقارب اور خاص طور پر والدین نے بہت مخالفت کی اور پھر تقسیم ملک کے موقع پر بھی مجھے کہا کہ ہمارے ساتھ آ جاؤ اور میرے احمدی ہونے پر بڑا افسوس کرتے رہے۔لیکن میرے انکار پر بڑا رو رو کر میرے والد اور والدہ نے کوشش کی لیکن بہر حال میں نہیں گیا۔دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔بلکہ کہتے ہیں کہ میری والدہ کی میرے اس غم میں بینائی جاتی رہی۔1952ء میں ان کی شادی حیدر آباد کے ظہور الدین صاحب کی بیٹی اختر النساء صاحبہ سے ہوئی۔ان سے ان کے دو بیٹے محمود احمد صاحب اور شعیب احمد صاحب ہیں۔شعیب صاحب واقف زندگی ہیں اور اس وقت قادیان میں ناظر بیت المال خرچ ہیں۔اسی طرح ان کے ایک داماد قاری نواب صاحب واقف زندگی ہیں۔انہوں نے دیہاتی مبلغ کے طور پر مہاراشٹر، کرناٹک میں خدمت کی توفیق پائی۔تبلیغ کا ان کو بہت شوق تھا۔کسی بور ڈ ی تختی پر لکھتے تھے کہ امام مہدی علیہ السلام آگئے ہیں تا کہ سب لوگ پڑھ لیں اور پھر