خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 737
خطبات مسرور جلد 13 737 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء دینے کا کام کرنا ایک احمدی کی ذمہ داری ہے اور احمدی ہی کر سکتے ہیں۔پس اس کے لئے کوشش کی ضرورت ہے اور سب سے بڑی چیز اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنا ہے، اس کے آگے جھکنا ہے، اس کا تقویٰ اختیار کرنا ہے۔اس کا تقویٰ اپنے دلوں میں پیدا کرنا ہے۔تبھی ہم اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو بھی اور دنیا کو بھی امن اور سلامتی دے سکتے ہیں۔ایسے ہی موقع کے لئے اور ان حالات کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ : آگ ہے پر آگ سے وہ سب بچائے جائیں گے جو کہ رکھتے ہیں خدائے ذوالعجائب سے پیار در ثمین صفحه 154 شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ ) پس اس ذو العجائب اور سب طاقتوں کے مالک خدا سے تعلق مضبوط تر کرنے کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ سے پیار میں بڑھنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا داروں کو بھی عقل دے کہ وہ خدا تعالیٰ کی آواز کو سنیں اور اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچیں۔نمازوں کے بعد میں ایک جنازہ حاضر اور دو غائب پڑھاؤں گا۔جنازہ حاضر مکرم عنایت اللہ احمدی صاحب کا ہے۔19 دسمبر کو ان کی وفات ہوئی تھی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔آپ بڑا لمبا عرصہ مبلغ سلسلہ رہے۔ان کے والد کا نام اللہ بخش صاحب تھا جو قادیان کے اللہ بخش سٹیم پریس کے مالک تھے۔عنایت اللہ احمدی صاحب کی پیدائش جنوری 1920ء کی ہے۔پانچ سال کی عمر میں آپ قادیان آگئے۔تعلیم الاسلام سکول قادیان میں داخل ہوئے۔1936ء میں تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان سے ہی میٹرک پاس کیا۔پھر 1939ء میں مشرقی افریقہ میں ملٹری میں کلرک بھرتی ہوئے اور جولائی 1946 ء کو فارغ ہوئے۔30 مئی 1944 ء کو چوبیس سال کی عمر میں آپ نے وقف کیا اور جولائی 1946 ء سے مشرقی افریقہ میں بطور مبلغ کام شروع کیا اور دسمبر 1979 ء تک بعمر ساٹھ سال ریٹائر ہوئے۔1946 ء سے دسمبر 73 ء تک 23 سال تین مہینے آپ نے بیرون پاکستان بطور مبلغ خدمت کی توفیق پائی۔چار سال چار ماہ کینیا میں، اٹھارہ سال گیارہ مہینے تنزانیہ میں بطور مبلغ کام کیا۔اس کے بعد ریٹائر منٹ تک پاکستان میں سیالکوٹ اور جھنگ کے اضلاع میں بطور مربی اور مربی ضلع کام کی توفیق ملی۔ان کی اولاد میں چار بیٹیاں اور تین بیٹے ہیں۔ایک بیٹے حبیب اللہ احمدی صاحب ہیں جن کو بطور وقف خدمت کی توفیق ملی۔جب تنزانیہ