خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 732
خطبات مسرور جلد 13 732 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء انسان کے لئے ممکن ہے تدبر سے پڑھا یا سنا جائے تو اس قدر وسعت معلومات کے بعد قطعی یقین کے ساتھ معلوم ہوگا کہ یہ اعتراض کہ گویا اسلام نے دین کو جبراً پھیلانے کے لئے تلوار اٹھائی ہے نہایت بے بنیاد اور قابل شرم الزام ہے۔اور یہ ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے تعصب سے الگ ہو کر قرآن اور حدیث اور اسلام کی معتبر تاریخوں کو نہیں دیکھا بلکہ جھوٹ اور بہتان لگانے سے پورا پورا کام لیا ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اب وہ زمانہ قریب آتا جاتا ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیا سے ان بہتانوں کی حقیقت پر مطلع ہو جائیں گے۔کیا اس مذہب کو ہم جبر کا مذہب کہہ سکتے ہیں جس کی کتاب قرآن میں صاف طور پر یہ ہدایت ہے که لا إكراه في اللاتين(البقرة: 257) یعنی دین میں داخل کرنے کے لئے جبر جائز نہیں۔کیا ہم اس بزرگ نبی کو جبر کا الزام دے سکتے ہیں جس نے مکہ معظمہ کے تیرہ برس میں اپنے تمام دوستوں کو دن رات یہی نصیحت دی کہ شر کا مقابلہ مت کرو اور صبر کرتے رہو۔ہاں جب دشمنوں کی بدی حد سے گزرگئی اور دین اسلام کے مٹا دینے کے لئے تمام قوموں نے کوشش کی تو اس وقت غیرت الہی نے تقاضا کیا کہ جولوگ تلوار اٹھاتے ہیں وہ تلوار ہی سے قتل کئے جائیں۔ورنہ قرآن شریف نے ہرگز جبر کی تعلیم نہیں دی۔اگر جبر کی تعلیم ہوتی تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب جبر کی تعلیم کی وجہ سے اس لائق نہ ہوتے کہ امتحانوں کے موقع پر سچے ایمانداروں کی طرح صدق دکھلا سکتے“۔( اگر جبر میں ہو تو دل سے سچائی نہیں دکھائی جاسکتی، وفا کا تعلق نہیں ظاہر کیا جا سکتا) فرمایا لیکن ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی وفاداری ایک ایسا امر ہے کہ کے اظہار کی ہمیں ضرورت نہیں۔66 مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحه 11-12 ) پھر آپ فرماتے ہیں : اسلام کی لڑائیاں تین قسم سے باہر نہیں “۔یعنی تین قسم کی لڑائیاں ہیں جب اسلام میں سختی ہوئی یا سختی کرنے کی اجازت ہے۔دفاعی طور پر یعنی یہ بطریق حفاظت خود مختیاری۔(اگر تم پر کوئی حملہ کرے تو اس وقت اپنی حفاظت اور دفاع کرنے کے لئے ہتھیار اٹھایا جا سکتا ہے )۔بطور سزا یعنی خون کے عوض میں خون“۔(اس وقت جب کسی کو سزا دینی ہو اور دوسروں نے حملہ کیا ہے خون بہایا ہے تو بہر حال سزا کے طور پر چاہے وہ جنگ ہے یا عام حالات ہیں اس وقت ہتھیار استعمال کیا گیا ہے یا سزا دی گئی ہے یا قتل کیا گیا ہے ) اور نمبر تین ” بطور آزادی قائم کرنے کے۔یعنی بغرض مزاحموں کی قوت توڑنے کے جو مسلمان ہونے پر قتل کرتے تھے“۔مسیح ہندوستان میں۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 12 )