خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 731
خطبات مسرور جلد 13 731 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء خوبصورت تعلیم کا ادراک جس طرح ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہوا ہے اسے پھیلائیں۔اس خوبصورت تعلیم کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہیں سکتا۔اور یہ سب باتیں قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں ہمیں آپ نے بتائی ہیں اور آگے جماعت کے لٹریچر میں بھی بہت ساری جگہوں پہ موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی صحیح تشریح اور تفسیر کے پہنچانے ، اس کے معنوں کی صحیح تشریح کرنے کے لئے اور قرآن کریم کی حفاظت کے لئے آپ علیہ السلام کو بھیجا جیسا کہ آپ نے فرمایا۔آپ نے اپنی کتب اور ملفوظات اور تقاریر میں اس کا خوب حق ادا کیا ہے۔پس اس زمانے میں قرآن کریم کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے آپ سے کام لیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کام لیا ہے۔اور یہی کام ہر احمدی کا ہے کہ ہر طبقے اور ہر مزاج تک اس پیغام کو پہنچائیں اور ہر جگہ اس کام کو سر انجام دیتے ہوئے آپ علیہ السلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کریں۔اس وقت میں بعض مثالیں پیش کرتا ہوں جو اسلام کی امن کی تعلیم کی خوبصورتی ظاہر کرتی ہیں۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے کہ لا إكراه في الدِّينِ (البقرة: 257) که دین میں کوئی جبر نہیں۔پھر فرمایا: وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ لَآمَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا أَفَأَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتَّى يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ۔(یونس : 100) اور اگر اللہ تعالیٰ اپنی ہی مشیت کو نازل کرتا تو جس قدر لوگ زمین پر موجود ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔پس جب خدا بھی مجبور نہیں کرتا تو کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ ایمان لے آئیں۔اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لامَنَ مَنْ فِي الْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو پھر ہر ایک زمین پر جو موجود ہے وہ ایمان لے آتا لیکن اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے باوجود اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا کہ تمہارے کہنے سے بھی یہ نہیں ہوگا۔لپس اس بات کو ہمیشہ یادرکھنا چاہئے اور یہی ایک تعلیم ہے جو بڑے واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ اسلام میں جبر نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: ”اسلام نے کبھی جبر کا مسئلہ نہیں سکھایا۔اگر قرآن شریف اور تمام حدیث کی کتابوں اور تاریخ کی کتابوں کو غور سے دیکھا جائے اور جہاں تک