خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 733 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 733

خطبات مسرور جلد 13 733 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 دسمبر 2015ء اب وہ دشمن لوگ جو اس بات پر قتل کرتے تھے کہ تم مسلمان کیوں ہو گئے؟ تم نے مذہب بدل لیا اس لئے مسلمان ہونے کی وجہ سے تمہیں قتل کرتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ یہ مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں اس لئے ان کے خلاف بھی تلوار اٹھائی جاسکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں ان تین وجوہات کے علاوہ کوئی وجہ نہیں جہاں تلوار اٹھائی جائے یا سختی کی جائے۔فرمایا کہ قرآن میں صاف حکم ہے کہ دین کے پھیلانے کے لئے تلوار مت اٹھاؤ اور دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو۔اور یہ مت خیال کرو کہ ابتدا میں اسلام میں تلوار کا حکم ہوا کیونکہ وہ تلوار دین کو پھیلانے کے لئے نہیں کھینچی گئی تھی بلکہ دشمنوں کے حملوں سے اپنے آپ کو بچانے کے لئے اور یا امن قائم کرنے کے لئے کھینچی گئی تھی۔مگر دین کے لئے جبر کرنا کبھی مقصد نہ تھا۔“ (ستارہ قیصرہ۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 120-121 ) فرمایا : ” جولوگ مسلمان کہلا کر صرف یہی بات جانتے ہیں کہ اسلام کو تلوار سے پھیلانا چاہئے وہ اسلام کی ذاتی خوبیوں کے معترف نہیں ہیں“۔(اس کا اعتراف نہیں کرتے ) ”اور ان کی کارروائی درندوں کی کارروائی سے مشابہ ہے۔( جانور ہیں)۔( تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 167 حاشیہ) پس قرآن کریم کا جبر سے دین میں شامل نہ کرنے کا یہ اعلان معترضین کے اعتراض کے رڈ کے لئے کافی ہے اور جو نظمند ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کو غلط طریق پر بدنام کیا جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ بہت سے پڑھے لکھے لوگوں حتی کہ عیسائی پادری نے بھی یہ کہا کہ اسلام کی یہ پرامن تعلیم جو ہے اس کا بہت زیادہ پر چار کرو۔اور جب لوگ یہ کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کا پر چار کرو تو اس بات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ بات پوری ہو رہی ہے کہ راستی کے بھوکے اور پیاسے ان بہتانوں پر مطلع ہو جائیں گے۔جب ان کو پتا لگتا ہے کہ اصل تعلیم کیا ہے۔لیکن ساتھ ہی ہمیں بھی آپ علیہ السلام نے توجہ دلائی کہ دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرو۔دین کی خوبیوں کو پیش کرو اور وہ تبھی پیش ہو سکتی ہیں جب خود علم ہو۔اپنے علم کو بڑھاؤ۔اور دوسرا فرمایا اور نیک نمونوں سے اپنی طرف کھینچو “۔اپنے نیک نمونے قائم کرو تا کہ ہمیں دیکھ کے لوگ ہماری طرف آئیں۔پس یہ ہر احمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ دین کی ذاتی خوبیوں کو پیش کرنے کے لئے قرآن کریم کا علم حاصل کریں اور پھر اپنے نیک نمونے قائم کر کے دنیا کو اپنی طرف کھینچیں اور یہی علم اور عمل ہے جس سے اس زمانے میں ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی غلامی میں آتے ہوئے قرآن کریم اور اسلام کی