خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 684
خطبات مسرور جلد 13 684 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء کاٹنی پڑتی ہے۔جہاں آپ کو سلامتی کا پیغام دینے پر تین سال کے لئے جیل جانا پڑتا ہے۔بعض آپ میں سے ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنی تنگیوں کی وجہ سے یہاں اسائلم بھی کیا ہے۔کچھ کاروباری لوگ بھی ہیں۔پس اس بات کو سوچیں، اس پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں آپ پر کس قدر فضل فرمایا ہے کہ عبادت کرنے پر یہاں کوئی سختی نہیں ہے۔مسجد کو مسجد کہنے پر کوئی سزا نہیں ہے۔آپ کے سلامتی کے پیغام کو بجائے جیل میں بھجوانے کے پسند کیا جاتا ہے۔پس کیا یہ باتیں اس بات کا تقاضا نہیں کرتیں کہ اپنے آپ میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کریں۔اپنے مقصد پیدائش کو پہچانیں۔اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کے بجائے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔آپس میں بھی پیار اور محبت سے رہیں اور اس پیار اور محبت کو اس معاشرے میں بھی پھیلائیں۔اپنے اندر وہ خصوصیات پیدا کریں جو خدا تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔صرف مسجد بننے سے وہ خصوصیات پیدا نہیں ہو جائیں گی بلکہ اس کے لئے کوشش کرنی ہوگی۔ان خصوصیات کا خدا تعالیٰ نے ایک جگہ قرآن کریم میں یوں ذکر فرمایا ہے۔فرماتا ہے کہ النَّائِبُونَ العبدُونَ الْحَمِدُونَ السَّائِحُونَ الرَّكِعُونَ السُّجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُونَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَفِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ (التوبة:112 ) کہ تو بہ کرنے والے،عبادت کرنے والے حمد کرنے والے، (خدا کی راہ میں) سفر کرنے والے، (اللہ ) رکوع کرنے والے، سجدہ کرنے والے، نیک باتوں کا حکم دینے والے اور بری باتوں سے روکنے والے اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے سب سچے مومن ہیں ) اور تو مومنوں کو بشارت دے دے۔پس جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ایک انسان کے حقیقی مومن بننے کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ وہ تو بہ کرے یعنی اپنے گناہوں کا اقرار کرے اور گناہوں کا اقرار کرتے ہوئے مکمل طور پر ان سے بچنے کا عہد کرے۔گناہ صرف بڑے بڑے گناہ نہیں ہیں بلکہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں جو نظام میں خرابی پیدا کرتی ہیں وہ بھی گناہ بن جاتے ہیں اور جب اس عہد پر قائم ہو جائیں تو پھر خدا تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرتے ہوئے اس کی عبادت کرنا ایک مومن کا فرض ہے۔اللہ تعالیٰ کی مرضی پر اپنے آپ کو چلانا ایک مومن کا فرض ہے۔اور خدا تعالیٰ کی مرضی کیا ہے؟ جیسا کہ میں پہلے بھی اس کا ذکر کر آیا ہوں ، خدا تعالیٰ کی مرضی یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی عبادت کرے جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاريات: 57)۔اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔پس نہ امیروں اور کاروباری لوگوں کے لئے کوئی گنجائش ہے کہ عبادت سے باہر ہوں ، نہ عام انسانوں کے