خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 685 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 685

خطبات مسرور جلد 13 685 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء لئے اور غریبوں کے لئے کوئی گنجائش ہے کہ عبادت میں سستی کریں۔مسجد بنانے میں بعض نے بہت بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں یا بعض کم آمدنی والوں نے اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر مالی قربانیاں کی ہیں۔بچوں نے بھی بڑے اعلیٰ نمونے قائم کئے ہیں۔لیکن یہ سب کچھ آپ میں سے کسی کو بھی چاہے اس نے اس مسجد کی تعمیر میں بے انتہا قربانی کی ہے اس بات سے بری نہیں کر دیتا کہ عبادتوں میں سستی دکھا ئیں۔یہ قربانیاں بھی تبھی قبول ہوں گی جب اس مسجد کی آبادی کا بھی حق ادا کریں گے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کریں گے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حمد کرنے والے بنو۔خدا تعالیٰ کی حمد کا حق اس کی عبادت سے ادا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی حمد کریں کہ اس نے مسجد بنانے کے لئے قربانی کی توفیق دی۔اللہ تعالیٰ کی حمد ادا کریں کہ اس نے یہ مسجد عطا فرما کر تبلیغ کے میدان کھولے۔اللہ تعالیٰ کی حمد اس طرح کریں کہ اس نے اسلام کی خوبصورت تعلیم بتانے کے لئے نئے راستے کھولے۔اللہ تعالیٰ کی حمد ادا کریں کہ اس نے آپ کے معاشی حالات بہتر کئے اور یہ معاشی حالات کا بہتر ہونا کسی کی عقل اور ہوشیاری اور علم کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وجہ سے ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد کریں۔اس طرح اس کا حق ادا کریں۔اللہ تعالیٰ کی حمدیہ بھی ہے کہ بعض ناموافق حالات اگر آ جائیں تو اس پر بھی اس کا شکر ادا کرتے چلے جائیں۔کبھی ناشکری نہ کریں۔اللہ تعالیٰ کی حمد اس طرح بھی کریں کہ اس نے زمانے کے امام کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی ہے اور ضائع ہونے سے بچالیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن اپنے سفروں کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے۔پس اس لحاظ سے آپ کا اس ملک میں آنا تبلیغ کے میدان میں ترقی کر کے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والا ہونا چاہئے۔ا پھر فرمایا کہ مومن رکوع کرنے والے ہیں۔ایک تو نمازوں کے رکوع ہیں لیکن اس کے یہ معنی بھی ہیں کہ اپنے وقت کو ، اپنی جان کو ، اپنے مال کو دین کی راہ میں قربان کرنے والے ہیں۔پس اپنے عہدوں کا خیال رکھیں۔صرف جان، مال، وقت اور عزت کو قربان کرنے کا عہد رسمانہ دہرائیں بلکہ اس کی عملی تصویر بنیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کے لئے ساجد ہونا بھی ضروری ہے۔یعنی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی بھر پور کوشش کریں۔اپنی دعاؤں کی طرف توجہ دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ مومن سجدہ کی حالت میں خدا تعالیٰ کے قریب ترین ہوتا ہے۔(صحیح مسلم کتاب الصلاة باب ما يقال في الركوع والسجود حدیث نمبر 1083) پس اس قربت کے سجدے تلاش کرنے کی کوشش کریں۔صرف ماتھا زمین پر ٹکا دینا ہی سجدہ نہیں