خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 683
خطبات مسرور جلد 13 683 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 نومبر 2015ء گے ، اس بنیادی اصول کو پکڑے رہو گے، ترقیاں کرتے چلے جاؤ گے۔پس ہر احمدی کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اپنے اعمال میں ترقی کرنے کی طرف توجہ دیتا چلا جائے تبھی دنیا کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکیں گے اور یہی چیز پھر اُس تمکنت کا بھی باعث بنے گی جب حکومتیں بھی اس حقیقی تعلیم کے تابع ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں آئیں گی۔پس اللہ تعالیٰ بہت بڑے مقاصد کے حصول کی حقیقی مسلمانوں کو خوشخبری دے رہا ہے لیکن اُن مسلمانوں کو جو ظالم نہ ہوں بلکہ انصاف پر قائم ہوں۔جو خدا تعالیٰ کو بھولنے والے نہ ہوں بلکہ اس کی عبادت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔جو دوسروں کے حقوق غصب کرنے والے نہ ہوں بلکہ حقوق ادا کرنے والے ہوں۔جو خود غرض نہ ہوں بلکہ بےنفس ہوں۔جو خلافت احمدیہ سے وفا کا تعلق رکھتے ہوں۔صرف اجتماعوں پر عہد دہرانے والے نہ ہوں بلکہ نیکیوں کو پھیلانے اور برائیوں سے روکنے کے لئے پہلے اپنے نفس کے جائزے لینے والے ہوں۔جو نظام جماعت کی حفاظت کے لئے اپنی اناؤں کو قربان کرنے والے ہوں۔پس یہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کا مقرب بنا ئیں گی۔یہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کا حق ادا کرنے والا بھی بنائیں گی۔یہ چیزیں ہیں جو وہ حقیقی احمدی بننے والا بنا ئیں گی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ماننے والوں سے توقع رکھتے ہیں۔آپ میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ہم خلافت کے لئے ہر چیز قربان کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن جب آپس کی رنجشوں اور چپقلشوں کو ختم کرنے اور ایک وحدت بننے کا کہا جاتا ہے تو پھر سو بہانے بھی تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔پس اگر حقیقی مومن بننا ہے تو فساد کے بہانے اور راستے تلاش کرنے والا بننے کی بجائے قربانی کر کے امن اور سلامتی قائم کرنے والا بنیں۔جب اس مسجد کی طرف منسوب ہو رہے ہیں تو یا درکھیں کہ ایک اینٹ، سیمنٹ ، پتھر کی عمارت کی طرف منسوب نہیں ہورہے بلکہ اس شخص کی طرف منسوب ہو رہے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں اس لئے بھیجا ہے کہ بندے کو خدا سے جوڑے اور تمام ذاتی رنجشوں اور خواہشوں اور اناؤں کو ختم کرتے ہوئے اس نظام میں پروئے جو قربانی چاہتا ہے۔صرف مال کی قربانی نہیں بلکہ اپنی انا کی قربانی بھی۔صرف امر بالمعروف دوسروں کے لئے نہیں چاہتا بلکہ پہلے اپنے نفس کو متوجہ کرتا ہے کہ کیا تم جو کہہ رہے ہو وہ کرتے بھی ہو۔نہی عن المنکر کے لئے دوسروں کو کہنے سے پہلے اپنے نفس کے جائزے لینے کے لئے کہتا ہے۔آپ میں سے اکثریت پاکستان سے آئے ہوؤں کی ہے جہاں آپ کو عبادت کرنے پر سختیاں اور پابندیاں اور تنگیاں برداشت کرنی پڑیں یا کرنی پڑتی ہیں۔جہاں آپ کو اپنی مسجد کو مسجد کہنے کی سزا