خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 614 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 614

خطبات مسرور جلد 13 614 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء لملفوظات جلد 3 صفحه (257) اور یقیناً یہ واقعات ہمارے ایمانوں کو مزید مضبوط کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ یہ خدا ہی کے سلسلہ میں برکت ہے کہ وہ دشمنوں کے درمیان پرورش پاتا اور بڑھتا ہے“۔فرمایا کہ ”انہوں نے بڑے بڑے منصوبے کئے۔خون تک کے مقدمے بنوائے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو باتیں ہوتی ہیں وہ ضائع نہیں ہوسکتیں۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ خدا کی طرف سے ہے۔اگر انسانی ہاتھوں اور انسانی منصوبوں کا نتیجہ ہوتا تو انسانی تدابیر اور انسانی مقابلے اب تک اس کو نیست و نابود کر چکے ہوتے۔انسانی منصوبوں کے سامنے اس کا بڑھنا اور ترقی کرنا ہی اس کے خدا کی طرف سے ہونے کا ثبوت ہے۔پس جس قدر تم اپنی قوت یقین کو بڑھاؤ گے اسی قدر دل روشن ہوگا۔جس قدر تم یعنی احمدی اپنی قوت یقین کو بڑھاؤ گے اسی قدر تمہارے دل روشن ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ یقیناً خدائی الفاظ ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات لئے ہوئے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ دشمن کے درمیان یہ سلسلہ پرورش پا رہا ہے۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں فرمایا کہ دلوں کو روشن کرنے کے لئے قوت یقین کو بڑھانے کی ضرورت ہے اپنے ایمانوں کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔پس ہم میں سے ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہماری قوت یقین بڑھ رہی ہے؟ کیا ہمارے دل روشن ہورہے ہیں؟ کیا ہماری دین کی طرف رغبت ہے؟ کیا ہم اسلامی احکامات پر عمل کر رہے ہیں ؟ ہم اپنی روحانی اور عملی حالتوں کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ بہت سے واقعات لوگ جو نئے احمدی ہو رہے ہیں لکھتے ہیں کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد ہماری روحانی حالت کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ہماری نمازوں کی کیا کیفیت ہوگئی ہے۔ہماری عملی حالتوں میں کیا تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔بعض عورتیں اپنے خاوندوں کے بارے میں لکھتی ہیں کہ احمدیت قبول کرنے کے بعد ان کے رویے یکسر بدل گئے ہیں۔پہلے جہاں گھروں میں فسا فتنہ لڑائیاں جھگڑے ہوتے تھے، گھروں میں سکون اور امن پیدا ہو گیا ہے۔دیکھیں کس طرح اور کس فکر کے ساتھ نئے شامل ہونے والے اپنے دین اور دینی حالت کے بارے میں سوچتے ہیں، فکر مند ہیں ،تبدیلیاں پیدا کر رہے ہیں۔یہی حالت ہم سب میں، ہر ایک میں پیدا ہونی چاہئے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام ایک جگہ ہمیں اپنی دینی حالتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :۔