خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 615
خطبات مسرور جلد 13 615 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16اکتوبر 2015ء قرآن شریف کو پڑھو اور خدا سے کبھی نا اُمید نہ ہو۔مومن خدا سے کبھی مایوس نہیں ہوتا۔یہ کافروں کی عادت میں داخل ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ہمارا خدا علی كُلّ شَیخی قدیر خدا ہے۔قرآن شریف کا ترجمہ بھی پڑھو اور نمازوں کو سنوارسنوار کر پڑھو اور اس کا مطلب بھی سمجھو۔اپنی زبان میں بھی دعائیں کر لو۔قرآن شریف کو ایک معمولی کتاب سمجھ کر نہ پڑھو بلکہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام سمجھ کر پڑھو۔نماز کو اسی طرح پڑھو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے البتہ اپنی حاجتوں اور مطالب کو مسنون اذکار کے بعد اپنی زبان میں بیشک ادا کرو اور خدا تعالیٰ سے مانگو۔(اپنی جو دعائیں ہیں، جوضروریات ہیں وہ اپنی زبان میں مانگو۔سجدوں میں مانگو) اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔اس سے نماز ہر گز ضائع نہیں ہوتی۔فرمایا کہ آجکل لوگوں نے نماز کو خراب کر رکھا ہے۔نمازیں کیا پڑھتے ہیں، ٹکریں مارتے ہیں۔نماز تو بہت جلد جلد مرغ کی طرح ٹھونگیں مار کر پڑھ لیتے ہیں اور پیچھے دعا کے لیے بیٹھے رہتے ہیں۔( غیر احمد یوں میں یہی حال ہے لیکن ہمارے ہاں بعد میں دعا بھی نہیں ہوتی اور نمازیں بھی بعض لوگ میں نے دیکھا ہے بڑی تیزی سے پڑھ رہے ہوتے ہیں ) فرمایا کہ ”نماز کا اصل مغز اور روح تو دعا ہی ہے۔نماز سے نکل کر دعا کرنے سے وہ اصل مطلب کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ایک شخص بادشاہ کے دربار میں جاوے اور اس کو اپنا عرض حال کرنے کا موقع بھی ہو لیکن وہ اس وقت تو کچھ نہ کہے ( جب بادشاہ کے دربار میں گئے وہاں تو کچھ نہ کہا) لیکن جب دربار سے باہر جاوے تو اپنی درخواست پیش کرے اسے کیا فائدہ۔ایسا ہی حال ان لوگوں کا ہے جو نماز میں خشوع خضوع کے ساتھ دعائیں نہیں مانگتے۔تم کو جو دعائیں کرنی ہوں نماز میں کر لیا کرو اور پورے آداب الدعا کو ملحوظ رکھو۔فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف کے شروع ہی میں دعا سکھائی ہے اور اس کے ساتھ ہی دعا کے آداب بھی بتا دیئے ہیں۔سورۃ فاتحہ کا نماز میں پڑھنا لازمی ہے اور یہ دعا ہی ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اصل دعا نماز ہی میں ہوتی ہے۔چنانچہ اس دعا کو اللہ تعالیٰ نے یوں سکھایا ہے۔(أَعُوذُ بِاللہ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ - (الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَلِكِ يَوْمِ الدِّينِ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ وَلَا الضَّالِّينَ)۔فرمایا کہ ” یعنی دعا سے پہلے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی جاوے“ (اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ) جس سے اللہ تعالیٰ کے لیے روح میں ایک جوش اور محبت پیدا ہو۔