خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 610 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 610

خطبات مسرور جلد 13 610 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء موصوف کا تعلق صوفی خاندان سے ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہاں کے ایک بزرگ مجذوب ابراہیم صاحب ہیں جن کی رؤیا و کشوف پورے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ان مجذوب کو فون کر کے جماعت کے بارے میں پوچھا کہ امام مہدی ظاہر ہو گئے ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ ہاں وہ ظاہر ہوکر فوت بھی ہو گئے ہیں۔آپ کو اس کی اطلاع نہیں ہوئی۔اس پر ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ اس وقت امام مہدی کے پانچویں خلیفہ ہیں۔کیا مجھے ان کی بیعت کرنی چاہئے تو مجذوب صاحب نے کہا کہ بیعت کرلیں۔اس کے بعد جس طرح وہ واقعہ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ہوا جودا تا گنج بخش کے پاس فقیر بیٹھے ہوئے ہیں۔مجذوب ہیں اور وہ رہنمائی لے کے ایک شخص کو بتا رہے ہیں اسی طرح ان کو بھی 120 سال کے بعد رہنمائی اس ایک اور مجذوب سے ہو رہی ہے۔کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے فون اپنی اہلیہ کو دیا اور انہوں نے مجذوب سے پوچھا کہ بیعت بہتر ہے یا راہ طریقت سے چمٹے رہنا۔مجذوب نے کہا کہ جب انسان بیعت کر لیتا ہے تو خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔اسی طرح بین کا ایک واقعہ ہے۔وہاں کے مبلغ لکھتے ہیں کہ کو تو نو شہر میں ایک سال قبل بیلو (Bello) نامی ایک نائیجیرین دوست کا روبار کے سلسلہ میں آئے۔نماز پڑھنے کے لئے گھر سے نکلے تو محلے میں دو مساجد دیکھ کر اس سوچ میں پڑ گئے کہ کس مسجد میں جاؤں۔چنانچہ یہاں اب اللہ تعالیٰ خواب کے ذریعہ سے مسجد دکھا کر ایک اور رہنمائی فرما رہا ہے۔کہتے ہیں کہ وہ غیر احمدیوں کی مسجد میں گئے اور دوسرے جمعہ پر پھر وہ احمدیوں کی مسجد میں آگئے۔کہتے ہیں پھر میں نے دونوں مسجدوں کے متعلق معلومات اکٹھی کرنی شروع کیں تو لوگوں نے احمدیوں کے متعلق برا بھلا کہا۔لوگوں کی باتوں سے میں سوچ میں پڑ گیا کہ صفائی اور سلیقے کے لحاظ سے تو احمدیوں کی مسجد منظم ہے۔مگر کہتے ہیں کہ احمدی اسلام کے خلاف ہیں۔ان کا نبی اور ہے۔لیکن مجھے سکون ان کی مسجد سے ہی ملا ہے۔چنانچہ میں دعا میں لگ گیا کہ اے خدا! تو ہی میری مدد اور رہنمائی کر۔میں یہاں اس علاقے میں نیا ہوں۔احمدیوں کی مسجد میں جاتا ہوں تو سکون ملتا ہے مگر لوگ کہتے ہیں کہ احمدی برے ہیں، کا فر ہیں۔دوسری مسجد میں دل نہیں لگتا۔اس صورتحال میں گھر میں ہی نماز پڑھتارہا۔نہ ادھر جانا شروع کیا نہ اُدھر گیا۔دونوں طرف ہی جانا چھوڑ دیا تو کہتے ہیں تین چار دن بعد مجھے خواب میں میرے گھر کے دو صابن دکھائے گئے۔دوصابن پڑے تھے ایک نیلے رنگ کا صابن جو کہ جرمن صابن تھا جبکہ دوسرا لوکل صابن تھا۔کہتے ہیں مجھے نیم بیداری میں تعبیر سمجھائی گئی کہ نیلے رنگ سے مراد نیلے رنگ کی صفیں ہیں۔بیدار ہو کر میں نے سوچا کہ جمعہ والے دن احمدیوں کی مسجد میں تو