خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 609
خطبات مسرور جلد 13 609 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء میرے والد صاحب نے مجھے کافی سمجھایا مگر مجھے کوئی اثر نہیں ہوا۔یہ خود لکھتے ہیں کہ کچھ عرصے کے بعد ایک دن میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک بہت بڑی اور خوبصورت تصویر آسمان پر ہے جو مسیح الزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ہے۔اگلے ہی دن میں نے تبلیغی جماعت کو چھوڑا اور احمدیت اور حقیقی اسلام میں دوبارہ شامل ہو گیا اور الحمد للہ کہ سارے پروگراموں میں شریک ہوتا ہوں۔خلیفہ اسیح کو خواب میں دکھائے جانے سے قبول احمدیت پھر اللہ تعالیٰ یہ بتانے کے لئے کہ نہ صرف حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدا تعالیٰ کے سچے فرستادے ہیں اور بھیجے ہوئے ہیں۔مسیح اور مہدی ہیں۔بلکہ آپ کے بعد جاری نظام خلافت بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید یافتہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو جاری رکھنے والا ہے خلفاء کو بھی خواب میں دکھا کر رہنمائی فرما دیتا ہے۔چنانچہ نائیجیریا سے ایک معلم لکھتے ہیں کہ محمد نامی ایک شخص نے اپنا خواب بیان کیا کہ وہ بحری جہاز پر سوار تھا۔جب بحری جہاز سمندر کے وسط میں پہنچا تو اچانک طوفان آ گیا اور جہاز ڈوبنے لگ گیا اور زندگی کے آثار ختم ہونے لگے۔اس وقت اچانک ایک انسان نے ہاتھ پھیلائے اور مجھے کنارے پر لے آیا۔مجھے نہیں علم تھا کہ یہ خدا کا بندہ کون ہے۔کچھ عرصے بعد اس محمد نامی شخص کا رابطہ ہمارے ایک داعی الی اللہ اور معلم سے ہوا۔داعی الی اللہ نے اس شخص کو ایم ٹی اے دکھایا تو ایم ٹی اے پر جب اس نے میری شکل دیکھی تو یکدم کہنے لگا کہ یہی وہ خدا کا بندہ تھا جس نے مجھے بچایا تھا۔چنانچہ وہ اپنے سارے خاندان کے ساتھ جماعت احمدیہ میں شامل ہو گیا۔اسی طرح سوڈان سے ( سوڈان کے لوگ مذہب کے معاملے میں بڑے کٹر ہیں ) وہاں کے احمد صاحب لکھتے ہیں کہ وہاں ڈاکٹر امیر صاحب ہیں انہوں نے فون کر کے انہیں بتایا کہ وہ بیعت کرنا چاہتے ہیں اور پھر اگلے روز جمعہ تھاوہ جمعہ پر آگئے اور جمعہ ہمارے ساتھ ادا کیا۔بیعت کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ نے اپنے میاں کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ کے ساتھ خواب میں دیکھا کہ حضوران سے پوچھتے ہیں کہ ابھی تک آپ نے بیعت کیوں نہیں کی۔اس پر انہوں نے ہاتھ بلند کئے اور کہا کہ میں بیعت کے لئے تیار ہوں۔اسی طرح ان کی بیٹی نے بتایا کہ انہوں نے مجھے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ دیکھا۔کہتے ہیں اس سے امیر صاحب کو یقین ہو گیا کہ جماعت سچی ہے کیونکہ بیوی نے ایک خلیفہ کو دیکھا اور بیٹی نے دوسرے خلیفہ کو دیکھا تو یہ یقین ہو گیا کہ جماعت سچی ہے اور خلافت کا نظام سچا ہے۔