خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 611
خطبات مسرور جلد 13 611 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اکتوبر 2015ء سرخ رنگ کا قالین تھا اور سبز صفیں تھیں۔لیکن خواب دیکھنے کے بعد دوبارہ میں نے دونوں مساجد کا جائزہ لیا تو احمد یہ مسجد میں مجھے نیلے رنگ کی صفیں ملیں۔پھر میں نے احمدیہ مسجد میں ہی نمازیں پڑھنی شروع کر دیں اور مزید دعاؤں میں لگا رہا۔کہتے ہیں ایک دن خواب میں دیکھا کہ امام نے مجھے ایک کتاب دی ہے اور اس میں بہت ہی خوبصورت ایک تصویر ہے۔چنانچہ اگلے جمعہ نماز کے بعد احمد یہ مسجد کے امام سے ملا اور کہا کہ میں اسلام احمد بیت کے بارے میں پڑھنا چاہتا ہوں۔میری اتنی سی بات سن کر کہتے ہیں کہ میں آپ کو ایک دو دن میں کتاب بھیجوا دیتا ہوں۔چنانچہ مجھے جو کتاب بھیجوائی گئی بجائے اس کے کہ کوئی مسائل کی کتاب ہوتی ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے بارے میں کوئی کتاب ہوتی ، کوئی حدیثوں سے حوالے دیئے جاتے ، انہوں نے جو کتاب بھجوائی وہ World Crisis and the Pathway to Peace تھی۔کہتے ہیں اسے میں نے کھولا تو پہلے صفحے پر وہی تصویر تھی جو میں نے خواب میں دیکھی تھی۔کہتے ہیں اس سے میرا ایمان اور بڑھ گیا۔پھر مجھے ایک مرتبہ قرآن کریم دکھایا گیا۔جو قرآن میرے پاس گھر میں تھا وہ نہ تھا بلکہ ایک اور قرآن تھا۔چند دن کے بعد وہ فریچ ترجمہ قرآن میں نے مسجد میں دیکھا جو خواب میں دکھایا گیا تھا۔( جماعت کا چھپا ہوا فریچ ترجمہ وہ مسجد میں دیکھا۔) اس طرح اللہ تعالیٰ میری رہنمائی کرتا گیا گویا کہ وہ خود میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے چلا رہا ہے۔پھر موصوف کہتے ہیں کہ ایک دن اللہ تعالیٰ نے مجھے نیم خوابی کی حالت میں بتایا کہ دس احکام ہیں انہیں پڑھو اور پھر خواب میں ہی مجھے وہ دس احکام پڑھ کر سنائے گئے۔مجھے ان کے الفاظ تو یادنہ تھے مگر ہر ایک مضمون میرے دل میں راسخ ہوتا جارہا تھا گڑتا جا رہا تھا۔کہتے ہیں عین تین چار دن کے بعد میں مسجد کے مربی صاحب سے باتیں کرنے لگا اور ابھی اس طرف نہیں آیا تھا کہ کیسے بیعت کرنی ہے کہ مربی صاحب نے ایک ورق دیا کہ اسلام پر عمل کرنے کے لئے یہ دس شرائط ہیں ان کو پڑھو اور سمجھو۔( یعنی جماعت احمدیہ کی اگر حقیقت معلوم کرنی ہے تو ) جب میں نے دس شرائط بیعت پڑھیں تو بہت رویا کہ میرے خدا نے کس طرح مجھے ہدایت دی ہے۔چنانچہ میں نے بیعت کر لی اور خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہتے ہیں اب بیعت کے بعد تو ہر روز مجھے ایک نیا لطف آ رہا ہے اور مزہ آ رہا ہے۔پھر مصر کے ایک صاحب ہیں۔وہ کہتے ہیں میں نے 2004ء میں خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع " ایک جگہ آرام کر رہے ہیں۔میں ان کے ساتھ بیٹھا ہوں اور وہ مجھے دیکھ کر فرماتے ہیں کہ تمہیں اس معاملے میں تحقیق کرنی چاہئے۔مجھے اس وقت سمجھ نہیں آئی اور کہتے ہیں میں نے