خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 596 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 596

خطبات مسرور جلد 13 596 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09اکتوبر 2015ء پس جب آپ ہمیں یہ فرماتے ہیں کہ میری مانو اور میرے پیچھے چلو اور مجھ سے اطاعت کا تعلق رکھو تو اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو ڈھونڈھنے کی راہیں ہمیں دکھائیں، ہمیں بتائیں کہ تم کس طرح اللہ تعالیٰ کو پا سکتے ہو اور اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہمیں حصہ لینے والا بنائیں۔اپنی نمازوں کو وقت پر اور صحیح رنگ میں ادا کرنے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے کے لئے صدقہ و خیرات کی طرف بھی توجہ دیں۔گویا کہ آپ سے تعلق اور اطاعت کا رشتہ ہمیں خدا تعالیٰ سے تعلق میں بڑھا رہا ہے۔پھر آپ نے ایک جگہ یہ نصیحت فرمائی کہ تم دو باتوں کا خیال رکھو۔پہلی بات یہ کہ تم سچے مسلمانوں کا نمونہ بن کر دکھاؤ اور دوسری بات یہ کہ اس کی یعنی اسلام کی خوبیوں اور کمالات کو دنیا میں پھیلاؤ۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 8 صفحہ 323) تبلیغ کرو۔یہ پیغام پہنچاؤ۔جب ہمارا اپنا علم کمزور ہوگا، جب ہماری اپنی عملی حالتیں قابل فکر ہوں گی تو ہم سچے مسلمان کا کیا نمونہ بنیں گے؟ ہم اسلام کے پیغام اور اس کے کمالات کو دنیا کو کیا بتا ئیں گے اور پھیلائیں گے؟ پھر آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ ” ہماری جماعت یہ غم گل دنیوی غموں سے بڑھ کر اپنی جان پر لگائے کہ ان میں تقویٰ ہے یا نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 35) ہمارا سب سے بڑا غم یہ ہونا چاہئے۔پس اس کے لئے کسی لمبی چوڑی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے۔ہر ایک خود اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ دنیا کا غم اسے زیادہ ہے یا دین کی بہتری کا غم اور یہ غم نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی ہے یا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا خوف اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی طرف توجہ ہے یا نہیں ہے۔یا جب دنیاوی معاملات ہوں تو خدا تعالیٰ کی رضا پیچھے چلی جاتی ہے۔آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ روز مرہ کے معاملات میں بھی ناجائز غضب اور غصے سے بچنا تقویٰ کی ایک شاخ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 36 ) جو لوگ ذرا ذراسی بات پر غصے میں آ جاتے ہیں انہیں خود ہی اپنی حالتوں پر غور کرنا چاہئے کہ وہ بھی تقوی سے دور ہورہے ہیں۔