خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 595 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 595

خطبات مسرور جلد 13 595 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09اکتوبر 2015ء جائے۔اللہ تعالیٰ کی خاطر جس تعلق کو قائم کیا ہے اس کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے بڑھایا جائے اور خالص ہو کر اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو جو نصائح فرمائی ہیں، جماعت کے افراد سے جو تو قعات رکھی ہیں وہ آپ کی مختلف کتب اور ارشادات میں موجود ہیں۔اس وقت ان میں سے چند ایک میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ”ہماری جماعت کو ایسا ہونا چاہئے کہ نری لفاظی پر نہ رہے“۔ظاہر پر نہ رہیں، صرف باتیں ہی نہ ہوں۔بلکہ بیعت کے سچے منشا کو پورا کرنے والی ہو“۔سچا منشاء کیا ہے؟ فرمایا : ” اندرونی تبدیلی کرنی چاہئے۔صرف مسائل سے تم خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے۔اگر اندرونی تبدیلی نہیں تو تم میں اور تمہارے غیر میں کچھ فرق نہیں۔آپ نے فرمایا کہ ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے بوجھ کو اٹھائے اور اپنے وعدے کو پورا کرے۔پس صرف اعتقادی طور پر اپنے آپ کو درست کر لینا، بیعت کر لینا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو مان لینا، مسائل اور بحث میں دوسروں کے منہ بند کر دینا کوئی حیثیت نہیں رکھتا اگر عملی تبدیلی نہیں ہے عملی حالتیں اگر بہتر نہیں ہور ہیں۔آپ نے فرمایا کہ اپنے نفس کی تبدیلی کے واسطے سعی کرو۔( کوشش کرو )۔نماز میں دعائیں مانگو۔صدقات خیرات سے اور دوسرے ہر طرح کے حیلہ سے وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا (العنکبوت :70)۔میں شامل ہو جاؤ۔( ملفوظات جلد 8 صفحہ 188 ) وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا کیا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں ان کو کیا ہوتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِيْنَا (العنکبوت: 70) کہ ہم ضرور انہیں اپنی راہوں کی طرف ہدایت دیں گے۔اس کی ایک جگہ مزید وضاحت فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ ”بھلا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ جو شخص نہایت لا پروائی سے ستی کر رہا ہے وہ ایسا ہی خدا کے فیض سے مستفیض ہو جائے“۔جو ستی کر رہا ہے وہ مستفیض نہیں ہوسکتا۔فرمایا یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ سستی کرنے والا خدا کے فیض سے مستفیض ہو جائے جیسے وہ شخص کہ جو تمام عقل اور تمام زور اور تمام اخلاص سے اس کو ڈھونڈتا ہے، یعنی خدا تعالیٰ کو ڈھونڈتا ہے۔(براہین احمد یہ روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 566 حاشیہ نمبر 11)