خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 597 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 597

خطبات مسرور جلد 13 597 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09اکتوبر 2015ء یہ چند ایک نصائح میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں فرمائی ہیں۔یہی باتیں ہیں جب ہم غور کریں تو ہمیں آپ علیہ السلام سے تعلق اور محبت میں یہ چیزیں بڑھاتی ہیں۔کس طرح اور کس درد کے ساتھ آپ کو ہماری دنیا و عاقبت کی فکر ہے۔ایک باپ سے زیادہ آپ ہمارے لئے فکر مند ہیں۔ایک ماں سے زیادہ آپ ہمارے لئے بے چین ہیں۔بار بار ہمیں نصیحت فرماتے ہیں اس لئے کہ کسی طرح ہمیں غلط راستوں سے نکال کر خدا تعالیٰ کی رضا کے راستوں پر ڈال دیں۔اس فکر اور پیار کے اظہار کے بعد کوئی وجہ نہیں کہ ہر احمدی کہلانے والا بھی آپ سے تعلق واطاعت کے اعلیٰ معیار نہ قائم کرے تا کہ اپنی دنیاو عاقبت سنوار سکے۔پھر اللہ تعالیٰ کا جماعت پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد نظام خلافت کو ہم میں قائم کیا اور خلافت کے نظام نے بھی اسی کام کو آگے بڑھانا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سپر د اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔اس حوالے سے خلافت کے ساتھ بھی اخلاص اور اطاعت کے تعلق کو جوڑ کر ہم اپنی منزلوں کی طرف سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔جو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا سچے مسلمان کا نمونہ بننا اور اسلام کے پیغام کو دنیا میں پھیلانا ہے۔خلیفہ وقت کے ہاتھ پر بھی ہر احمدی عہد بیعت باندھتا ہے۔پس اس عہد کو پورا کرنا بھی ضروری ہے اور اس کے لئے خلافت کی طرف سے جو ہدایات آتی ہیں، جو نصائح کی جاتی ہیں، جو پروگرام دیئے جاتے ہیں ان پر عمل کر کے ہی اس عہد کو پورا کیا جا سکتا ہے۔بیعت کے وقت ہر احمدی یہ عہد کرتا ہے کہ ان شرائط کی پابندی کرے گا جو بیعت کی شرائط ہیں اور خلیفہ وقت جو بھی معروف فیصلہ کریں گے اس کی پابندی کرے گا اور جیسا کہ میں نے کہا خلیفہ وقت کا کام بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کام اور آپ کی نصائح کو آگے پھیلانا ہے۔اسلام کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے پہ پھیلانا ہے۔پس جب ہر احمدی اس سوچ کے مطابق اپنے آپ کو بنائے گا تب ہی حقیقی اطاعت کے معیار قائم ہوں گے۔تب ہی جماعت کی اکائی قائم ہوگی۔تب ہی تبلیغ کے میدان کھلیں گے۔اگر ہر ایک یہ کہہ کر کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے تعلق اخوت اور عقیدت ہے اور میں آپ کی اطاعت کرتا ہوں اپنے اپنے راستے متعین کرنے لگ جائے تو کبھی ترقی نہیں ہوسکتی۔جماعت احمدیہ کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اس میں نظام خلافت قائم ہے اور جو تعلق ہر احمدی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے اس وجہ سے ہے کہ آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق ہیں تو