خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 594 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 594

خطبات مسرور جلد 13 594 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 109اکتوبر 2015ء سے خالص ہو کر تعلق رکھتا ہے۔نہ اس کی مثال اس صورت میں ملے جب انسان کسی کے زیرا احسان ہو کر اپنے آپ کو اس کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔پس اس دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اعلیٰ معیار کی محبت اگر کسی سے ہو سکتی ہے تو وہ آپ کے غلام صادق سے ہو۔پس یہ معیار ہیں جو ہمیں قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں آنے کے بعد آپ سے تعلق کیسا ہونا چاہئے؟ ان باتوں کی روشنی میں ہر ایک اپنا جائزہ خود لے سکتا ہے کہ کیا ہمارے یہ معیار ہیں؟ یا جب دنیاوی معاملات ہمارے سامنے ہوں ، دنیاوی منفعتیں ہمارے سامنے ہوں ، دنیاوی فوائد ہمارے سامنے ہوں تو ہم یہ باتیں بھول جاتے ہیں، دنیاوی تعلقات اور دنیاوی اغراض اس محبت کے تعلق اور اطاعت پر حاوی ہو جاتے ہیں؟ انسان کسی بھی کام کو یا تو اپنے فائدے اور مفاد کے لئے کرتا ہے یا اگر مرضی کا کام نہیں ہے تو بعض دفعہ بلکہ اکثر دفعہ خوف کی وجہ سے بھی کرتا ہے کہ مجبوری ہے۔نہ کیا تو پوچھا بھی جائے گا اور ہو سکتا ہے کہ سزا بھی مل جائے۔یا محبت اور اخلاص اور وفا کے جذبے کے تحت کرتا ہے۔اگر دین کا صحیح فہم و ادراک ہو تو دین کے کام انسان محبت اور اخلاص و وفا کے جذبے کے تحت ہی کرے گا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم سے یہ توقع رکھی ہے کہ آپ کی بیعت میں آ کر اس جذ بے کو بڑھا ئیں۔جب تک یہ اطاعت اور خلوص کا جذبہ اور اخلاص کا تعلق اگر پیدا نہیں ہوگا تو جو نصائح کی جاتی ہیں ان کا بھی اثر نہیں ہوگا۔ان پر عمل کرنے کی کوشش بھی نہیں ہوگی۔پس اگر نصائح پر عمل کرنا ہے، آپ کی باتوں کو ماننا ہے، اپنے عہد بیعت کو نبھانا ہے تو اپنے اطاعت اور اخلاص اور وفا کے معیاروں کو بھی بڑھانا ضروری ہے۔کیا کوئی احمدی کبھی یہ تصور کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کوئی بات قرآن وسنت کے منافی کی ہوگی ؟ یقینا نہیں۔پس جب نہیں تو پھر ہر احمدی کو سمجھنا چاہئے کہ معروف اطاعت کا مطلب ہے کہ محبت و اخلاص کو انتہا پر پہنچا کر کامل اطاعت کرنا اور کامل اطاعت صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے جب جس کی اطاعت کی جا رہی ہے اس کے ہر حکم کی تلاش اور جستجو بھی ہو۔پس ہم پر فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہم سے جو توقعات رکھی ہیں، جو حکم دیئے ہیں ان کو تلاش کریں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں ورنہ تو صرف دعوی ہو گا کہ ہم ہر بات مانتے ہیں۔باتوں کا ہمیں پتا ہی نہیں کہ کیا ہیں اور کس کو مانا جاتا ہے تو مانی کیا ہیں۔پس احمدی ہونے کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ اپنے علم میں اضافہ کیا