خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 593 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 593

خطبات مسرور جلد 13 593 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 اکتوبر 2015ء کے عہد کو سمجھتے ہیں ، نہ احمدیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یادر کھتے ہیں۔باوجود اس کے کہ اب تو ہر جگہ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے بیعت کی کارروائی بھی دیکھی جاتی ہے اور سنی جاتی ہے اس طرف توجہ کر کے بیعت کی حقیقت کو جاننے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اسی طرح خلافت سے اپنے تعلق کو اس طرح جوڑنے کی کوشش نہیں کرتے جو اس کا حق ہے۔اس میں صرف ان ملکوں میں اسائلم لے کر آنے والے ہی نہیں ہیں بلکہ ہر قسم کے احمدی ہیں۔میں نے اسائلم والوں کی مثال اس لئے دی ہے کہ اس وقت میرے سامنے اکثریت اسائلم والوں کی بیٹھی ہے اور آج ان کی بہتر حالت جماعت کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے ہے ورنہ ایسے لوگ ہر جگہ اور ہر طبقے میں موجود ہیں۔پس ہر ایک جب اپنا جائزہ لے گا تو خود بخودا سے پتا چل جائے گا کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔اس وقت میں اس جائزے کے لئے صرف ایک شرط بیعت سامنے رکھتا ہوں۔اس کو صرف سرسری طور پر نہ دیکھیں بلکہ غور کریں اور پھر اپنا جائزہ لیں۔اگر تو اس جائزے کا جواب اثبات میں ہے، ہاں میں ہے تو وہ خوش قسمت ہیں اور ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو سمیٹنے والے ہیں۔اگر کمزوری ہے تو اصلاح کی کوشش کریں۔بیعت کی دسویں شرط میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں کہ یہ کہ اس عاجز سے عقد اخوت محض الله با قرار طاعت در معروف باندھ کر اس پر تا وقت مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجے کا ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 564) پس یہ وہ الفاظ ہیں جو میں آپ علیہ السلام سے بے غرض اور بے انتہا محبت اور تعلق قائم کرنے کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں۔آپ ہم سے عہد لے رہے ہیں۔کیا عہد لے رہے ہیں؟ کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر مجھ سے محبت تعلق اور بھائی چارے کے اعلیٰ معیار قائم کرو۔یہ عہد لے رہے ہیں کہ یہ اقرار کرو کہ آپ کے ہر معروف فیصلے کو مانوں گا۔یعنی ہر وہ بات جس کے لئے خدا تعالیٰ نے آپ کو مامور فرمایا ہے۔ہر وہ بات جس کی اسلام کی تعلیم کی روشنی میں آپ ہمیں ہدایت فرمائیں گے۔اور پھر صرف اس کا ماننا ہی نہیں ہے، اس کی کامل اطاعت ہی نہیں ہے بلکہ مرتے دم تک اس پر قائم رہنے کی کوشش کروں گا اور عمل کروں گا۔اور یہ عہد بھی کہ جو تعلق اور محبت کا رشتہ قائم ہوگا اس کا معیار ایسا اعلیٰ درجے کا ہوگا کہ جس کی مثال دنیوی رشتوں ور تعلقوں میں نہ ملتی ہوگی۔نہ ہی اس تعلق کی مثال اس حالت میں ملتی ہوگی جب انسان کسی سے وفا کی وجہ