خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 582
خطبات مسرور جلد 13 582 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02اکتوبر 2015ء ہر طرح کی تکلیف میں آپ کے صبر اور راضی برضا ر ہنے کا نمونہ دنیا میں ہمیں کہیں اور نظر بھی نہیں آتا اور یہی وہ اعلیٰ خلق ہے جو تمام مسلمانوں کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں بھی سچی توبہ کی طرف بھی توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ بھی تمہاری کامیابیوں اور امتحانوں میں سے سرخرو ہو کر نکلنے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پس مومن کا کام ہے کہ عمل کے ساتھ ساتھ تو بہ کی طرف بھی توجہ دے۔یعنی ہر مشکل اور امتحان کے وقت اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرے اور پھر نیک اعمال سے اپنی اصلاح کے تسلسل کو جاری رکھے۔آپ فرماتے ہیں کہ جس طرح ایک مالی پودا لگا کر پھر ا سے پانی دیتا ہے، اسے پالتا ہے، اسے سینچتا ہے اسی طرح مومنوں کو بھی چاہئے کہ ایمان کے پودے کو نیک اعمال کا پانی لگائیں۔اگر یہ کرو گے تو یہی ایک مومن کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ لوگوں کی باتوں سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔بہت سارے لوگ باتیں کرتے ہیں۔لوگ تو اولیاء اللہ پر بھی اعتراض کرتے آئے ہیں کہ ان کی فلاں دعا قبول نہیں ہوئی، فلاں قبول نہیں ہوئی۔آپ نے فرمایا کہ ایسے اعتراض کرنے والے دراصل قانون الہی سے ہی لاعلم ہیں۔ایک مومن تو جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی تو مان لیتا ہے اور کبھی منواتا ہے یہی اس کا قانون ہے۔آپ نے ہمیں نصیحت فرمائی کہ تم ایسے نہ بنو جو اس قانون کو توڑنے والے ہوتے ہیں۔بیت الفتوح میں ہولناک آتشزدگی اور حضور انور کی رہنمائی یہ جو یہاں آگ لگنے کا ہی واقعہ ہورہا تھا اس وقت ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ان کے ایک غیر احمدی دوست کہنے لگے کہ اگر تم لوگوں کی اتنی دعائیں قبول ہوتی ہیں تو یہ آگ لگی کیوں؟ یہ مشکل تمہارے پر آئی کیوں؟ خیر اس نے اس کو دلیل دی۔کیا آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مشکلات نہیں آئی تھیں یا مومنین پر نہیں آتیں۔لیکن بہر حال یہ اعتراض کرنے والے اعتراض کرتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ تم ایسے نہ بنو جو قانون کو توڑنے والے ہوتے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ مومنین کے لئے مصائب اور مشکلات ہمیشہ نہیں رہتے۔آتے ہیں، چلے جاتے ہیں۔پس صبر اور دعا اور اپنے عملوں سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنو اور جب بھی مشکلات میں سے گزرو، جب بھی مصائب آئیں تو انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہنے والوں میں شامل ہو جاؤ۔یہ وہ لوگ ہیں جن کو پھر اللہ تعالیٰ بشارت دیتا ہے۔جب انسان انا للہ کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔پس جب ہم مصائب یا نقصان دیکھ کر انا اللہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم جب اللہ تعالیٰ کے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی تباہ و برباد نہیں کرے گا۔اگر کوئی مشکل آئی ہے تو شاید اللہ تعالیٰ ہمیں پہلے سے بڑھ کر انعام دینے