خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 583 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 583

خطبات مسرور جلد 13 583 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02اکتوبر 2015ء کے لئے تیار کرنا چاہتا ہے اور اِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ کہہ کر پھر ہم اللہ تعالیٰ کے آگے جھک کر یہ کہتے ہیں کہ آئندہ کے بڑے انعام میں ہماری وجہ سے پھر کوئی روک نہ پیدا ہو بلکہ اے اللہ ! ہم تیری طرف جھکتے ہوئے یہ انعام ما نگتے ہیں اور ہمیشہ تیرے فضلوں کے ہی طلب گار ہیں۔پس ہمیں صابر بھی بنا اور ہمیں اپنے عملوں کو بہتر کرنے والا بھی بنا اور ہمیں اپنی طرف ہمیشہ جھکا رہنے والا بھی بنا اور جب ہم یہ حالت پیدا کریں گے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ ترقیات بھی ہوں گی اور پہلے سے بڑھ کر جماعتی ترقیات ہمیں نظر آئیں گی۔دشمن کی دشمنی اور ان کا ہنسی ٹھٹھا ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اگر ہمارا اللہ تعالیٰ سے صحیح تعلق ہے، حقیقی تعلق ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی بتایا گزشتہ دنوں یہاں مسجد کے متصل دو ہالوں میں آگ کی وجہ سے بڑا نقصان ہوا۔بڑی خوفناک آگ تھی۔اس پر جب مختلف ٹی وی چینلز اور دوسرے میڈیا نے خبر دی ہے تو بعض بغض و کینہ میں بڑھے ہوئے لوگوں نے بڑی خوشی کا اظہار کیا۔ایک مثال میں نے پہلے بھی دی کہ اچھا ہوا یہ مسجد جل رہی ہے۔بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ مسجد ہے ہی نہیں کیونکہ یہ مسلمان نہیں اس لئے ان کی جو بھی عبادت کی جگہ ہے وہ جل رہی ہے۔ان لوگوں نے پہلے تو خوشی منائی پھر افسوس کا جواظہار کیا وہ اس بات پر نہیں کہ کیوں حصہ جلا بلکہ اس بات پر افسوس کیا کہ ان کے صرف دو ہال جلے ہیں، مسجد کیوں نہیں جلی۔اس بات پر ہمیں بڑا افسوس ہے۔تو یہ آجکل کے بعض مسلمانوں کا حال ہے۔لیکن سارے ایسے نہیں ہیں۔بعض علاقوں سے مسلمانوں نے ہمارے سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔ایک علاقے کے مسلمانوں کی طرف سے یہ ہمدردی کا پیغام بھی آیا کہ ہمیں افسوس ہے کہ آپ کی مسجد کا کچھ حصہ جلایا اس کا ہال جلا۔انہوں نے کہا کہ چند مہینے پہلے ہماری مسجد بھی جلی تھی۔وہاں آگ لگ گئی تھی اور کئی مہینے سے یہ مسجد بند تھی۔اب چند دن پہلے کھلی ہے۔بعض لا علم مقامی انگریزوں نے بھی یہ اظہار کیا کہ اچھا ہوا کیونکہ مسلمانوں کے خلاف ویسے ہی بعض جگہوں پر نفرت پھیلی ہوئی ہے۔لیکن ہمارے ہمسائے اور وہ لوگ جو جماعت کو جانتے ہیں انہوں نے ہی ان غیر مسلموں کو بھی اور غیر احمدیوں کو بھی خود ہی جواب دیا اور کہا کہ تم لوگوں کو شرم آنی چاہئے یہ تو ایسی جماعت ہے جو صحیح اسلامی تعلیم پر عمل کرتی ہے۔اور پھر دنیا میں مختلف چینلز نے اور دوسرے ذرائع نے بھی اس خبر کو دیا۔یہ خبر دی کہ اس طرح یورپ کی سب سے بڑی مسجد میں آگ لگنے کا واقعہ ہوا ہے۔پھر اس پر تبصرے بھی ہوتے رہے کہ یہ کیسی جماعت ہے، یہ کون لوگ ہیں۔گویا اس واقعہ نے دنیا میں جماعت کا ایک وسیع تعارف بھی کروا دیا۔گو ہمیں تو افسوس ہوا، ہم نے صبر بھی دکھایا اور انا للہ بھی پڑھا