خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 564 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 564

خطبات مسرور جلد 13 564 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء اکٹھے بیٹھ کر کچھ کھانے میں ہتک محسوس کریں گے تو ان کے سامنے ہم یہ پیش کر سکیں گے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو بے تکلفی کے ساتھ اپنے دوستوں سے مل کر کھایا پیا کرتے تھے تم کون ہو جو اس میں اپنی ہتک محسوس کرتے ہو۔تو بعض باتیں کو چھوٹی ہوتی ہیں مگر ان سے آئندہ زمانوں میں بڑے اہم مذہبی، سیاسی اور تمد فی مسائل حل ہوتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ پس جن دوستوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل دیکھنے یا آپ کی صحبت میں بیٹھنے کا موقع ملا ہوانہیں چاہئے کہ وہ ہر بات خواہ وہ چھوٹی ہو یابڑی لکھ کر (خوب) محفوظ کر دیں۔مثلاً اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لباس کی طر زیاد ہے تو وہ بھی لکھ کر بھیج دے۔(ماخوذ از مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر ، انوار العلوم جلد 14 صفحہ 552تا556) رجسٹر روایات صحابہ پر ہونے والا کام آپ نے اس زمانے میں فرمایا اور اس کے بعد پھر صحابہ نے اپنی روایات جمع بھی کرنی شروع کیں لکھوانی شروع کیں اور صحابہ کی روایات، واقعات کے بہت سارے رجسٹر بن چکے ہیں۔ان کو ایک دفعہ میں بیان بھی کر چکا ہوں۔پہلے تو یہ ہاتھ سے لکھے گئے تھے اب نئے سرے سے کمپوز کئے جارہے ہیں تا کہ اگر کتابی صورت میں شائع کرنے ہوں تو شائع بھی ہو جائیں۔اور بہت سارے ایسے ہیں کہ اگر تضاد نہیں تو دوسرے حوالوں سے بعض دفعہ پوری طرح ملتے نہیں۔یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعض اور روایات ان کی روایات کی نسبت زیادہ واضح ہیں تو ان کو نئے کمپوز کرتے وقت چھوڑا بھی گیا ہے۔لیکن چھوٹی چھوٹی باتیں بہت ساری سامنے آ جاتی ہیں۔بعض کمپوز کرنے والے ہمارے علماء بھی ایسے ہیں جو بعض باتوں کی سفارش کر کے بھجوا دیتے ہیں کہ ان کو رکھنے کی ضرورت نہیں ، اس سے تو یہ اثر پڑ سکتا ہے اور وہ اثر پڑ سکتا ہے۔جب میں خود ان کو پڑھتا ہوں تو کئی روایات میں نے دیکھی ہیں کہ ان علماء کی بلا وجہ کی احتیاط ہے۔ان روایات کو آنا چاہئے۔بہر حال یہ روایات جمع ہو رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے سامنے کسی وقت میں پیش بھی ہو جا ئیں گی۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ان روایات سے ایک فائدہ یہ ہوگا کہ اگر آئندہ کسی زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں جو کہیں ( مثلاً ایک اور چھوٹی سی بات ہے ) کہ ننگے سر رہنا چاہئے تو ان کے خیالات کا ازالہ ہو سکے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں موجود ہیں۔(اب ننگے سر رہنا بھی ایک چھوٹی سی بات ہے۔عام لوگ بعض دفعہ نماز میں وغیرہ ننگے سر پڑھ لیتے ہیں تو ان