خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 565
خطبات مسرور جلد 13 565 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء روایات سے اس طرف بھی توجہ ہو جاتی ہے کیونکہ بہت سارے واقعات ایسے بھی ہیں جس میں مسجد کے آداب، نماز کے آداب، بڑی مجالس میں بیٹھنے کے آداب کا ذکر ہوتا ہے۔تو آپ فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں موجود ہیں ) اور آپ ہی شارع نبی ہیں۔(یعنی شریعت جاری کرنے والے آپ ہی ہیں۔مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ قریب کے مامور کی باتیں شارع نبی کی باتوں کی مصدق سمجھی جاتی ہیں۔( ان کی تصدیق کرنے والی ہوتی ہیں۔) آجکل یہ کہا جاتا ہے کہ جن فقہ کی باتوں پر امام ابوحنیفہ نے عمل کیا ہے وہ زیادہ صحیح ہیں۔اسی طرح آئندہ زمانے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جن حدیثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے عمل سے سچا قرار دیا ہے انہی کو لوگ سچی حدیثیں سمجھیں گے اور جن حدیثوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضعی قرار دیا ہے ( یعنی خود بنائی گئی ہیں یا ان کی صحت نہیں ہے ) ان حدیثوں کو لوگ بھی جھوٹا سمجھیں گے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ باتیں بھی ایسی ہی اہم ہیں جیسی حدیثیں کیونکہ یہ باتیں حدیثوں کا صدق یا کذب معلوم کرنے کا ایک معیار ہوں گی۔پھر آپ نے فرمایا کہ ان روایات میں بیشک بعض ایسی باتیں بھی ہو سکتی ہیں جنہیں اس زمانے میں ( یعنی ان کا جو دور تھا حضرت مصلح موعودؓ کے وقت میں یا اس وقت ) شائع کرنا مناسب نہ ہو مگر انہیں بہر حال محفوظ کر لیا جائے یا بعض ایسی روایات ہیں جنہیں آج بھی شاید پرنٹ نہ کیا جائے ، شائع نہ کیا جائے لیکن جو روایات صحابہ سے ہمیں مل رہی ہیں محفوظ بہر حال ہونی چاہئیں اور بعد میں جب مناسب موقع ہوانہیں شائع کر دیا جائے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا تھا کہ ”سلطنت برطانیہ تا ہشت سال۔بعد ازاں ایا م ضعف و اختلال“۔آپ فرماتے ہیں کہ مگر یہ الہام اس وقت شائع نہ کیا گیا بلکہ ایک عرصے کے بعد شائع کیا گیا۔اب بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ اس میں ملکہ وکٹوریہ کی وفات کے بعد کا ذکر ہے۔اس کے بعض اور پہلو بھی لئے جاسکتے ہیں۔دنیا میں سلطنت برطانیہ جس طرح پھیلی ہوئی تھی وہ پھر آہستہ آہستہ کمزور بھی ہوتی چلی گئی اور یہ نہیں کہ ایک دم ہو گئی بلکہ اس کمزوری کو ایک وقت اور عرصہ لگتا ہے تو اس کے آثار شروع ہو گئے۔بہر حال جو بھی تھا یہ ایک الہام تھا اس کی مختلف توجیہیں کی جاسکتی ہیں۔تو آپ فرماتے ہیں کہ ایسے واقعات کو ریکارڈ میں لے آیا جائے مگر شائع اس وقت کیا جائے جب خطرے کا وقت گزر جائے۔آپ فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ اس کام کو مکمل کر لیا جائے۔اور اللہ کے فضل سے جیسا کہ میں نے کہا ان روایات کو صحیح رنگ میں مکمل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔