خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 563
خطبات مسرور جلد 13 563 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 ستمبر 2015ء حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو اس وقت چھوٹے بچے تھے آپ کی گردن پر لاتیں لٹکا کر بیٹھ گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک سر نہ اٹھا یا جب تک کہ وہ خود بخو دا لگ نہ ہو گئے۔اب اگر کوئی اس قسم کی حرکت کرے تو ممکن ہے بعض لوگ اسے بے دین قرار دے دیں اور کہیں کہ اسے خدا کی عبادت کا خیال نہیں ، اپنے بچے کے احساسات کا خیال ہے۔مگر ایسا شخص جب بھی یہ واقعہ پڑھے گا اسے تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کا خیال غلط ہے اور وہ چپ کر جائے گا ( کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال سامنے ہے۔گو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو پھر بھی خاموش نہ رہ سکیں۔چنانچہ ایک پٹھان کا قصہ ہے۔کہتے ہیں کہ اس نے قدوری میں یہ پڑھا ( یہ واقعات کی ایک کتاب ہے ) کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ( یہ جو اس قسم کی حرکتیں ہوتی ہیں۔کوئی چھوٹی حرکت بھی ہو تو نماز ٹوٹ جاتی ہے ) اس کے بعد وہ حدیث پڑھنے لگا۔( یہ واقعہ پڑھنے کے بعد پھر اس نے حدیث پڑھی اور اس میں یہ حدیث آ گئی ) کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ جب نماز پڑھی تو اپنے ایک بچے کو اٹھا لیا۔جب رکوع اور سجدہ میں جاتے تو اسے اتار دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو پھر اٹھا لیتے۔وہ یہ حدیث پڑھتے ہی کہنے لگا۔اس طرح تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ٹوٹ گئی۔کیونکہ قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔گویا ان کے نزدیک شریعت بنانے والا کنز ( مراد کنز العمال ) یا قدوری کا مصنف تھا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں تھے۔تو ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں کہ با وجود واضح مسئلے کے اسے ماننے سے انکار کر دیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں۔پس اس بات کی ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہئے۔( نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں) کہ تمہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جس بات کا علم ہے وہ چھوٹی سی ہے بلکہ خواہ کس قدر چھوٹی بات ہو بتا دینی چاہئے۔خواہ اتنی ہی بات ہو کہ میں نے دیکھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام چلتے چلتے گھاس پر بیٹھ گئے کیونکہ ان باتوں سے بھی بعد میں اہم نتائج اخذ کئے جائیں گے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ بعض دوستوں سمیت باغ میں گئے اور آپ نے فرمایا آؤ بے دانہ کھائیں (جو شہتوت کی ایک قسم ہے) چنانچہ بعض دوستوں نے چادر بچھائی اور آپ نے درخت جھڑوائے اور پھر سب ایک جگہ بیٹھ گئے اور انہوں نے بے دانہ کھایا۔اب کئی لوگ بعد میں ایسے آئیں گے جو کہیں گے کہ نیکی اور تصوف یہی ہے کہ طیب چیزیں نہ کھائی جائیں۔ایسے آدمیوں کو ہم بتا سکتے ہیں کہ تمہاری یہ بات بالکل غلط ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو بے دانہ جھڑوا کر کھایا تھا۔یا بعد میں جب بڑے بڑے متکبر حاکم آئیں گے اور وہ دوسروں کے ساتھ