خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 552 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 552

خطبات مسرور جلد 13 552 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء قرآن مجید دیکھ کر کہنے لگے مجھے بتائیں کہ اس کتاب کی کیا خصوصیات ہیں؟ کہتے ہیں میں نے انہیں قرآن مجید کا مختصر تعارف کروایا۔اس کے بعد وہ صاحب قرآن کریم خریدنے لگے۔لیکن بیوی بڑی کثر عیسائی تھی۔وہ اس بات پر بضد رہی اور خاوند کو کہتی رہی کہ قرآن کریم نہیں خریدنا۔بہر حال وہ صاحب کہنے لگے کہ میری بیوی جو ہے اس کو قرآن کریم کی کوئی ایسی بات بتائیں کہ وہ قرآن کریم لینے پر آمادہ ہو جائے۔خود تو خریدنا چاہتے تھے لیکن مجبوری بھی تھی ، لڑائی نہ پڑ جائے گھر میں۔ہمارے وہ احمدی کہتے ہیں کہ میں نے انہیں کہا کہ قرآن مجید میں ایک سورۃ ہے جس میں حضرت عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر ہے۔ان کے بارے میں ایسی تفصیل ہے جو آپ کو بائبل میں نہیں ملے گی اور وہ جگہ نکال کر ان کے آگے رکھ دی۔ترجمہ تھا۔ان کی اہلیہ پڑھنے لگیں۔کچھ دیر پڑھنے کے بعد کہنے لگیں کہ واقعی بہت دلچسپ کتاب ہے۔ہم نے تو پریس میں پڑھا تھا یعنی میڈیا نے ہمیں یہ بتایا ہوا تھا، اخباروں نے ہمیں یہ بتایا ہوا تھا کہ قرآن نفرت سے بھرا ہوا ہے لیکن اس میں تو عیسی علیہ السلام اور ان کی والدہ کا بہت محبت سے ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ انہوں نے قرآن کریم خرید لیا۔چند ہفتوں کے بعد وہ دوبارہ ہمارے سٹال پر سے گزرے تو شکریہ ادا کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم نے قرآن کریم پڑھا ہے۔میڈیا میں اسلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو نفرت پھیلائی جا رہی ہے اگر کوئی قرآن کریم پڑھے یا اس پر سرسری نگاہ ہی ڈال لے تو اس کی ساری غلط فہمیوں کا ازالہ ہو جاتا ہے۔کہتے ہیں میں تو اپنے بہت سارے عیسائی دوستوں کو بھی قرآن کریم پڑھنے کا کہتا ہوں۔بینن میں ایک بک سٹال کے موقع پر گورنمنٹ کے ایک سکول ٹیچر آئے اور جماعت کی محبت اور امن کی تعلیم پڑھی تو کہنے لگے مجھے اپنے طالبعلموں کے لئے بھی لٹریچر دیں۔میں چاہتا ہوں کہ وہ بھی اس لٹریچر کا مطالعہ کریں اور معاشرہ امن اور محبت سے بھر جائے۔امن اور محبت سے بھرنے کے لئے معاشرے کو جس چیز کی ضرورت ہے وہ جماعت احمدیہ کا لٹریچر ہے۔چنانچہ وہ لٹریچر لے گئے اور جا کر اپنے طالبعلموں کود یا اور بعد میں سکول کے کچھ سٹوڈنٹس آئے اور انہوں نے کہا کہ یہ لٹریچر میں ٹیچر سے مل چکا ہے۔نیک فطرت مسلمانوں پر بھی جماعت احمدیہ کے نظام کو دیکھ کر جو عین اسلامی نظام ہے اثر ہوتا ہے۔اور یہی بات پھر ان کے لئے ہدایت کا باعث بن جاتی ہے۔برکینا فاسو کے مربی کہتے ہیں کہ ایک جگہ ہے سلا بوبو (Silaboubo) وہاں تبلیغ کے لئے گئے۔لوگوں نے بڑا اچھا استقبال کیا۔سارے مرد عور تیں تبلیغ سننے کے لئے جمع ہو گئے اور رات دو بجے تک سوال و جواب ہوتے رہے۔آخر پر کہتے ہیں کہ