خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 553 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 553

خطبات مسرور جلد 13 553 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 ستمبر 2015ء میں نے انہیں بتایا کہ ہماری جماعت ایک ہاتھ پر اکٹھی ہے اور ہمارے چندے کا بھی ایک نظام ہے جو با قاعدہ عالمی شکل اختیار کر چکا ہے۔جماعت کا ایک بیت المال ہے جو خلیفہ وقت کے تحت ہے۔اسی بیت المال میں چندہ جاتا ہے اور اسی میں سے نکل کر خرچ ہوتا ہے۔کہتے ہیں صبح نماز کے بعد ایک دوست زکریا صاحب آئے اور کہنے لگے کہ میں نے کچھ عرصہ قبل ایک خواب دیکھی تھی کہ میں چندہ دے رہا ہوں اور ایک آواز آتی ہے کہ چندہ ایسے اسلامی گروپ کو دو جس کا ایک بیت المال ہو۔میں کافی عرصے سے یہ اسلامی گروپ ڈھونڈ رہا تھا لیکن رات کو جب مربی صاحب نے جماعت کے مالی نظام کے بارے میں بتایا تو مجھے ان الفاظ کی تعبیر مل گئی جو میں نے خواب میں سنے تھے۔چنانچہ موصوف نے اسی وقت دس ہزار فرانک سیفہ نکال کر ادا کئے۔رسید بک بھی ہمارے پاس تھی۔کہتے ہیں اسی وقت ہم نے رسید بک نکال کر رسید کاٹ دی۔جب لوگوں نے اس خواب کے بارے میں سنا اور یہ بھی دیکھا کہ با قاعدہ چندے کی ایک رسید بک ہوتی ہے جس پر سارا ریکارڈ رکھا جاتا ہے تو بڑے متاثر ہوئے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بعد اس گاؤں میں 282 افراد نے بیعت کر لی اور باقاعدہ یہ سب لوگ جماعت کے چندے کے نظام میں شامل ہیں۔گوئٹے مالا ساؤتھ امریکہ کا ملک ہے۔وہاں فلائر کی تقسیم کے دوران ایک نوجوان یوسف سے رابطہ ہوا۔مشن ہاؤس آئے۔احمدیت قبول کی۔انہوں نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا۔کہتے ہیں کہ غیر از جماعت مسجد میں جا کر دلی سکون نہیں ملا۔لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کینہ اور بغض رکھتے ہیں۔ایک دن جب میں دعا کر کے سویا تو خواب میں ایک بزرگ دیکھے جو نہایت روحانی شکل وصورت کے مالک تھے۔ایک راستہ ہے جس پر راکھ ہی راکھ ہے۔یہ بزرگ میرے سامنے چلنے لگ جاتے ہیں اور اشارہ کرتے ہیں کہ میرے پیچھے چلو۔اس بزرگ کے چلنے سے راکھ والا راستہ صاف ہوتا جا رہا ہے۔کہتے ہیں خواب میں صرف یہ بات ہی سمجھ لگتی ہے کہ یہ سبق کل تک یا درکھو۔اگلے دن آپ لوگوں کو اسلام احمدیت کا پیغام لوگوں میں تقسیم کرتے دیکھا۔میں نے پڑھا تو دل کو یوں محسوس ہوا کہ یہی اصل اسلام ہے اور میں ویب سائٹ پر تمام معلومات حاصل کر کے با قاعدہ بیعت کی غرض سے اب یہاں آیا ہوں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی تو انہوں نے کہا کہ یہی وہ بزرگ تھے جو انہیں خواب میں راستہ دکھا رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس بات نے ان کو ایمان میں اور بھی مضبوط کر دیا ہے۔