خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 533
خطبات مسرور جلد 13 533 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء فرماتے ہیں کہ معلوم نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسا کیوں کرتے تھے مگر کئی دوست کہا کرتے تھے کہ حضرت صاحب یہ تلاش کرتے ہیں کہ ان روٹی کے ٹکڑوں میں سے کون سا تسبیح کرنے والا ہے اور کون سا نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اس قسم کی بات سننی مجھے اس وقت یاد نہیں مگر یہ یاد ہے کہ لوگ یہی کہا کرتے تھے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ لَه زمین و آسمان میں سے تسبیحوں کی آواز اٹھ رہی ہے۔اب کیوں اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے جبکہ ہم اس تسبیح کی آواز کو سن ہی نہیں سکتے۔اور جس چیز کو ہم سن نہیں سکتے اس کے بتانے کی ہمیں ضرورت کوئی نہیں تھی کہ کر رہی ہے۔جس کو ہم سن نہیں سکتے تو ہمیں کیا پتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ کے بتانے کا مقصد کیا تھا۔کیا قرآن کریم میں کہیں یہ لکھا ہے کہ جنت میں فلاں شخص مثلاً عبدالرشید نامی دس ہزار سال سے بیٹھا ہوا ہے۔چونکہ ہمارے لئے اس کے ذکر سے کوئی فائدہ نہیں تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی باتیں نہیں بتا ئیں۔پھر جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو اس کا یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ اے لوگو تم اس تسبیح کو سنو۔جب ہم کہتے ہیں کہ چاند نکل آیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کرتا ہے کہ لوگ آئیں اور دیکھیں یا جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص گا رہا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ چلو اور اس کا راگ سنو۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ يُسَبِّحُ لله مَا فِي السَّمواتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ۔کہ زمین و آسمان کی ہر چیز تسبیح کر رہی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اس تسبیح کو سنو۔پس معلوم ہوا کہ یہ تہی ایسی ہے جسے ہم سن بھی سکتے ہیں۔ایک سنا تو ادنی درجے کا ہے اور ایک اعلیٰ درجے کا۔مگر اعلیٰ درجے کا سننا انہی لوگوں کو میسر آ سکتا ہے جن کے ویسے ہی کان اور آنکھیں ہوں۔اسی لئے مومن کو یہ کہا جاتا ہے کہ جب وہ کھانا شروع کرے تو بسم اللہ الرحمن الرحیم کہے۔کھانا ختم کرے تو الحمد للہ کہے۔کپڑا اپنے یا کوئی اور نظارہ دیکھے تو اسی کے مطابق تسبیح کرے۔گویا مومن کا تسبیح کرنا کیا ہے؟ وہ ان چیزوں کی تسبیح کی تصدیق کرنا ہے۔وہ کپڑے کی تسبیح اور کھانے کی تسبیح اور دوسری چیزوں کی تسبیح کی تصدیق کرتا ہے۔جب انسان کھانا کھاتے ہوئے بشیر اللہ پڑھتا ہے۔کھانا ختم کر کے الْحَمْدُ لِلہ پڑھتا ہے۔کپڑا پہنتے ہوئے دعا کرتا ہے اور اللہ کو یاد رکھتا ہے تو یہ چیزیں جو انسان خود کر رہا ہوتا ہے یہی اصل میں تسبیح ہے جو ان چیزوں کی طرف سے ہو رہی ہوتی ہے۔ان کو دیکھ کے جب انسان شکر گزاری کرتا ہے تو یہی تسبیح