خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 534 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 534

خطبات مسرور جلد 13 534 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء ان چیزوں کی طرف سے بھی ہو رہی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں اور کتنے ہیں جو اس پر عمل کرتے ہیں۔وہ رات دن کھاتے اور پیتے ہیں۔پہاڑوں پر سے گزرتے ہیں، دریاؤں کو دیکھتے ہیں ، سبزہ زاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں، درختوں اور کھیتوں کو لہلہاتے ہوئے دیکھتے ہیں، پرندوں کو چہچہاتے ہوئے سنتے ہیں ،مگر ان کے دلوں پر کیا اثر ہوتا ہے۔کیا ان کے دلوں میں بھی ان چیزوں کے مقابلے میں تسبیح پیدا ہوتی ہے۔اگر نہیں پیدا ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ان چیزوں کی تسبیح کو نہیں سنا۔مگر تم کہو گے کہ ہمارے کانوں میں تسبیح کی آواز نہیں آتی۔میں اس کے لئے تمہیں بتاتا ہوں کہ کئی آوازیں کان سے نہیں بلکہ اندر سے آتی ہیں۔(ماخوذ از خطبات محمود دجلد 16 صفحہ 150-149) پس ہر شکر گزاری جو ہے جب وہ انسان کسی چیز کی کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی قدرت کو دیکھتا ہے تو سبحان اللہ پڑھتا ہے تو انسان کی جو تیج ہے وہ اصل میں ان چیزوں کی جو تبیج ہے اس کا اظہار انسان کے منہ سے ہورہا ہوتا ہے۔اس نکتے کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔پس تسبیح کے اس انداز کو بھی ہمیں اپنانے کی کوشش کرنی چاہئے بلکہ تقویٰ تو یہی ہے کہ اس قسم کی تسبیح ہمارا معمول بن جائے۔حضرت مسیح موعود کی بعثت اسلام کے دفاع کیلئے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اسلام پر حملہ کرنے والوں کے منہ بند کرنے کے لئے اور اسلام کی خوبصورتی ظاہر کرنے کے لئے بھیجا ہے۔اس تعلق میں بھی ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ : ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک عیسائی آیا اور اس نے کہا کہ آپ تو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کی زبان اُم الالسنتہ ہے حالانکہ میکس مولر (Max Muller) وغیرہ نے لکھا ہے کہ جو زبان اُم الالسنتہ ہوتی ہے وہ مختصر ہوتی ہے۔پھر آہستہ آہستہ لوگ اس کو پھیلا دیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔ہم تو میکس مولر کے اس فارمولے کو نہیں مانتے کہ ام الالسنہ مختصر ہوتی ہے مگر چلو بحث کو چھوٹا کرنے کے لئے ہم اس فارمولے کو مان لیتے ہیں۔( بحث ختم کرنے کے لئے ہم اس فارمولے کو مان لیتے ہیں ) اور عربی زبان کو دیکھتے ہیں کہ آیا وہ اس معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔اس شخص نے یہ بھی کہا تھا کہ انگریزی زبان عربی زبان کے مقابلے میں نہایت اعلیٰ ہے۔