خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 532

خطبات مسرور جلد 13 532 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 ستمبر 2015ء کہتے جاتے اور پھر ان میں سے ایک چھوٹا سا ریزہ لے کر سالن سے چُھو کر منہ میں ڈالتے۔یہ آپ کی عادت ایسی بڑھی ہوئی تھی کہ دیکھنے والے تعجب کرتے اور بعض لوگ تو خیال کرتے کہ شاید آپ روٹی میں سے حلال ذرے تلاش کر رہے ہیں۔لیکن دراصل اس کی وجہ یہی جذ بہ ہوتا تھا کہ ہم کھانا کھا رہے ہیں اور خدا کا دین مصائب سے تڑپ رہا ہے۔ہر لقمہ آپ کے گلے میں پھنستا تھا اور سبحان اللہ سبحان اللہ کہہ کر آپ گو یا اللہ تعالیٰ کے حضور معذرت کرتے تھے کہ تو نے یہ چیز ( یعنی کھانا کھانا ) ہمارے ساتھ لگا دی ہے ( اور خوراک انسان کی ضرورت ہے )۔ورنہ دین کی مصیبت کے وقت ہمارے لئے یہ ہرگز جائز نہ تھا۔حضرت مصلح موعود کہتے ہیں وہ غذا بھی (جو آپ کی تھی ) ایک مجاہدہ معلوم ہوتا تھا۔یہ ایک لڑائی ہوتی تھی ان لطیف اور نفیس جذبات کے درمیان جو اسلام اور دین کی تائید کے لئے اٹھ رہے ہوتے تھے اور ان مطالبات کے درمیان جو خدا تعالیٰ کی طرف سے قانون قدرت کے پورا کرنے کے لئے قائم کئے گئے تھے۔“ (ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحه 270-269) یعنی جو جذبات دین کی تائید کے لئے آپ کے دل میں تھے ان کے درمیان اور جو انسانی ضروریات ہیں، کھانا کھانا انسان کی ضرورت ہے، پینا انسان کی ضرورت ہے، ان کے درمیان ایک لڑائی چل رہی ہوتی تھی۔آپ کا کھانا کھانا بھی ایک مجبوری تھی۔اصل فکر آپ کو دین کی تائید کی تھی ، اسلام کی ترقی کی تھی۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نمونہ ہمیں اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو جب استعمال کریں تو اس کا شکر کریں۔ایک تو اس کی تسبیح کریں تو ساتھ ہی دین کی حالت کے در دکو بھی محسوس کریں۔اس کے لئے کوشش کریں کہ کس طرح ہم نے اشاعت دین اور تبلیغ دین میں حصہ ڈالنا ہے۔پھر کھانے کے اس انداز سے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تھا تسبیح کے مضمون کی مزید وضاحت فرمائی اور قرآن کریم کے اس حصہ آیت ہے کہ يُسَبِّحُ لِلهِ مَا فِی السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (التغابن : 2) زمین و آسمان کی ہر چیز خدا تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے یہ نکتہ نکالا ہے۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب کھانا کھایا کرتے تھے جیسا کہ پہلے بھی ذکر آیا ہے کہ بمشکل ایک پھل کا آپ کھاتے تھے اور جب اٹھتے تو روٹی کے ٹکڑوں کا بہت سا چورا آپ کے سامنے سے نکلتا۔آپ کی عادت تھی جس طرح پہلے بتایا کہ روٹی کے ٹکڑے کرتے جاتے پھر کوئی ٹکڑا اٹھا کر منہ میں ڈال لیتے اور باقی ٹکڑے دستر خوان پر رکھے رہتے۔