خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 520
خطبات مسرور جلد 13 520 خطبه جمعه فرموده مورخه 28 اگست 2015ء تو دنیا امن کا گہوارہ بن جائے۔سیرالیون کے نیشنل ٹی وی SLBC کے جرنلسٹ بھی شامل ہوئے۔یہ کہتے ہیں آپ نے جلسے میں مجھے دعوت دے کر بڑا احسان کیا اور کہتے ہیں جلسے کے دوران ہی میں نے جماعت احمدیہ میں شامل ہونے کا پختہ ارادہ کر لیا تھا۔چنانچہ موصوف نے عالمی بیعت کے دن بیعت بھی کر لی۔پال سینگر ڈیوس (Paul Sanger Davies) جو برٹش رائل ایئر فورس میں گروپ کیپٹن ہیں، کہتے ہیں میں لازماً اس بات کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اب تک میں نے سینکڑوں ایسے پروگرام دیکھے ہیں لیکن ایسا منظم پروگرام کبھی نہیں دیکھا۔خاص کر ایسے امور پر بات چیت کر کے بہت اچھا لگا کہ ہم آجکل بہت سے خطرات میں گھرے ہوئے ہیں اور ان خطرات سے نکلنے کا کیا حل ہے اور اس حوالے سے بہت سی اچھی باتیں سنے کو ملیں۔آئیوری کوسٹ سے دو ممبر پارلیمنٹ آئے ہوئے تھے۔کو آ کوکو آکو واترا ( Kouakou Kouakou Ouattara) صاحب ان میں سے ایک تھے۔کہتے ہیں یہ میری زندگی کے اہم لمحات میں سے ہے۔میں کئی سالوں سے احمدی ہوں مگر اس طرح کا روحانی ماحول پہلی دفعہ دیکھا ہے۔میں احمدی تو پہلے سے ہی تھا مگر جلسہ سالانہ میں شامل ہوکر میرا ایمان اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔برٹش سوسائٹی آف دی ٹیورن شراؤڈ نیوز لیٹر کے ایڈیٹر Hugh Farey صاحب تھے۔یہ بھی ٹیورن شراؤڈ (Turin Shroud) کے ماہرین میں سے ہیں۔کہتے ہیں کہ میں نے آج تک جتنے فورمز پر کفن مسیح کے حوالے سے بات چیت کی ہے ان میں سب سے زیادہ بہترین فورم یہ تھا۔کہتے ہیں یہ تین دن علمی لحاظ سے میرے لئے غیر معمولی تھے۔نہ صرف شراؤڈ کے بارے میں بلکہ احمد یہ جماعت کے بارے میں بہت کچھ جانے کا موقع ملا ہے۔میرا اس بارے علم نہ ہونے کے برابر تھا۔اس سے میرے لئے تحقیق کی نئی راہیں کھلی ہیں۔اور ٹیورن شراؤڈ پر تحقیق کرنے والی بعض دوسری شخصیات بھی تھیں وہ بھی شامل ہوئیں۔ان میں ایک صاحب بیری شارٹس (Barrier Schwartz) ہیں جو کہ ٹیورن شراؤڈ کے حوالے سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ مستند سمجھے جاتے ہیں۔ان کی تقریر تو آپ لوگ سن چکے ہیں۔بہت ساری باتوں کے علاوہ جو ایک خاص بات تھی وہ کہتے ہیں کہ میرا یہاں آنے کا مقصد آپ لوگوں کو شراؤڈ آف ٹیورن کے بارے میں آگاہی دینا تھا۔لیکن مجھے یہ تسلیم کرنا پڑ رہا ہے کہ جس قدر میں آپ کو اس حوالے سے علم دے سکتا ہوں ان چند دنوں میں اس سے کئی گنا میں نے آپ لوگوں سے علم سیکھا ہے۔