خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 519
خطبات مسرور جلد 13 519 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اگست 2015ء چنانچہ جب جلسہ ختم ہوا تو یہ کیمرہ مین کہنے لگے کہ کوئی شک نہیں کہ جس محبت اور اخوت اور ایک دوسرے کے لئے محبت کا جلسے پر مظاہرہ ہورہا تھا وہ محض دکھاوا نہیں تھا بلکہ ایک حقیقت تھی۔پھر جرنلسٹ جو تھیں انہوں نے میرا انٹرویو بھی لیا تھا۔کہتی تھیں وہاں جا کے میں لکھوں گی یا ڈاکومنٹری بناؤں گی۔تو اس سے مزید تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں۔کہتی ہیں کہ میں وعدہ کرتی ہوں کہ جماعت احمدیہ کی ان تعلیمات کو جمیکا میں پھیلانے کے لئے سخت محنت کروں گی۔اب یہ عیسائی ہیں اور ہماری تبلیغ کا ذریعہ بن رہی ہیں۔پانامہ سے ایک دوست رونالڈو کو چز صاحب آئے ہوئے تھے۔کہتے ہیں اس طرح کی پرامن فضا کی مثال آج کے دور میں ملنا ممکن نہیں۔ہمارے ملک میں بھی کثیر تعداد میں مسلمان رہتے ہیں لیکن لوگ ان کے بارے میں اچھا تاثر نہیں رکھتے بلکہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔مجھے بھی جب مسلمانوں کے جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت ملی تو مجھے لگا یہ لوگ بھی پانامہ کے مسلمانوں کی طرح ہی ہوں گے لیکن جب میں یہاں پہنچا تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی۔میں نے یہاں محبت ، پیار اور امن کی ایسی فضا دیکھی جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔کہتے ہیں آج کے بعد اگر کوئی شخص اسلام کے بارے میں غلط نظریہ پیش کرے گا تو میں اس کا بھر پور دفاع کروں گا کہ سارے مسلمان ایک جیسے نہیں ہوتے۔قازخستان سے تانا شیوا ما صاحبہ ہیں۔سٹیٹ یونیورسٹی کی پروفیسر ہیں اور نیو یارک کی اکیڈمی کی ممبر بھی ہیں۔سن 2000ء میں ان کو لیڈی آف ورلڈ کے طور پر منتخب کیا گیا تھا۔اپنے تاثرات میں بیان کرتی ہیں کہ اپنی 75 سالہ زندگی میں دنیا کی بہت سی جگہیں دیکھ چکی ہوں لیکن انسانیت سے محبت اور انسانیت کی حقیقی معنوں میں مدد کرنا میں نے صرف یہاں ہی دیکھا ہے۔بہت شاندار منظر تھا کہ سب کی موجودگی میں مختلف فیلڈز کے طلباء نے کارکردگی کی بنا پر میڈل حاصل کئے۔یہ بات اور یہ اعزاز ہمیشہ ان کے دلوں میں پختہ رہے گا اور ان کو مستقبل میں بھی اپنی زندگی کو اسی اصول کے مطابق ڈھالنے میں مد و معاون ہوگا۔کہتی ہیں میں بھی اس جلسے کی بدولت اپنے اندر ایک روحانی تازگی اور قوت محسوس کرتی ہوں۔ایک طالبہ گوئٹے مالا سے آئی تھیں۔کہتی ہیں جلسے میں شامل ہونا میرے لئے انتہائی خوش کن تجربہ تھا۔اس جلسے کے روحانی ماحول نے میری آئندہ زندگی کوسنوارنے کی طرف رہنمائی کی ہے۔کروشیا سے اٹھائیس افراد کا وفد آیا ہوا تھا اور کروشین قومی اسمبلی کے ممبر پارلیمنٹ پانڈک درازن صاحب بھی اس میں شامل تھے۔کہتے ہیں میرا کسی بھی مسلمان تنظیم کے اجتماع میں شرکت کا پہلا موقع تھا اور کافی متاثر تھے۔آخری تقریر بھی انہوں نے سنی۔کہتے ہیں اگر ان نصیحتوں پر عمل کریں