خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 491 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 491

خطبات مسرور جلد 13 491 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء کر تبلیغ کا بڑا شوق تھا اور جب بھی موقع ملتا تبلیغ کرتے۔ہارٹلے پول سے محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ گزشتہ سال دسمبر میں ہمیں وقف عارضی پر آئرلینڈ جانے کی توفیق ملی۔آپ ریجنل قائد تھے اور میں قائد مجلس تھا لیکن آپ نے امیر قافلہ مجھے مقرر کر دیا اور پورے سفر کے دوران میں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ کمال صاحب نے خاکسار کی عزت اور احترام اور اطاعت کرنے میں کوئی کمی دکھائی ہو۔نماز تہجد کا خاص اہتمام کرتے اور جوش اور جذبے سے تبلیغ کرتے۔آئرلینڈ کے ہمارے مبلغ ابراہیم نون صاحب ہیں۔ان سے پوچھتے کہ عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو کس طرح تبلیغ کرنی چاہئے اور کہتے ہیں دوران سفر ایک خادم جو ہمارے ساتھ تھے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھنے کی طرف توجہ دلائی اور بعد میں امتحان بھی لیا۔اسی طرح خدام الاحمدیہ کے جو باقی خدمت کرنے والے ہیں وہ سب بھی ان کی تعریف کر رہے ہیں۔ہڈرزفیلڈ کے ایک سابق صدر ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ میں ان کو بچپن سے جانتا تھا۔دوسرے بچوں سے مختلف طبیعت تھی۔نہ لڑتے جھگڑتے تھے اور نہ ہی شوخ مزاج تھے۔بڑوں کا احترام بچپن سے ہی کرتے تھے۔جماعتی خدمت کا جنون کی حد تک شوق تھا۔یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہو گا کہ آپ حقیقی طور پر اپنے عہد کا پاس کرنے والے تھے۔بطور داعی الی اللہ کامیاب مبلغ تھے۔جہاں بھی موقع ملتا تبلیغ شروع کر دیتے۔اپنے کام آنے والے لوگوں کو کثرت سے جماعتی لٹریچر دیتے اور جماعتی فنکشنوں پر آنے کی دعوت دیتے۔ان کا بڑا وسیع حلقہ تھا اور ہر جگہ ان کا پیغام پہنچتا۔ایک خادم لکھتے ہیں کہ دھیمے مزاج کے مالک تھے اور ہر وقت خدمت دین کے لئے اپنے آپ کو تیار رکھتے تھے اور یہ نہیں کہ آگے آگے آئیں بلکہ پیچھے رہ کر کام کرنے کا انہیں زیادہ لطف آتا تھا۔کبھی اس نیت سے کام نہیں کرتے تھے کہ کوئی آپ کی تعریف کرے۔خدا تعالیٰ سے تعلق کے متعلق دوسروں کو نصیحت کرتے رہتے۔قرآن وحدیث سے گہرا لگاؤ تھا۔مطالعہ کا بہت شوق تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ ذوق شوق سے کرتے۔جب بھی کوئی کتاب انگریزی میں ملتی فوراً دوسروں کو اس کے متعلق آگاہ کرتے کہ فلاں کتاب کا ترجمہ اب انگریزی میں میسر ہے اسے پڑھو۔غرض کہ بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بوڑھے والدین کو بھی صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ان کی تسکین اور تسلی کے سامان پیدا فرمائے۔ان کے جو باقی بھائی وغیرہ ہیں، عزیز ہیں، قریبی ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ صبر و حوصلہ دے۔