خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 490 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 490

خطبات مسرور جلد 13 490 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء میہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ میڈیکل نقطہ نظر سے بھی یہ تکلیف دہ صورتحال ہے لیکن ہمیشہ بیماری میں مسکراتے رہے ہسپتال میں بھی قیام کے دوران مجھے کہا کہ ہمیں تبلیغ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہئے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خواہش کا اظہار فرمایا تھا کہ اگر آپ کو انگریزی زبان آتی تو آپ کس قدر تبلیغ کے سامان کرتے۔عابد وحید ہمارے پریس کے انچارج ہیں وہ کہتے ہیں کہ کمال صاحب نے دیگر جماعتی خدمات کے علاوہ ہمارے دفتر کے لئے بھی میڈیا میں بہت سے نئے رابطے پیدا کئے۔بیماری کے باوجود ہسپتال سے فون اور ای میلز کے ذریعہ صحافیوں کو جلسے میں شرکت پر آمادہ کر رہے تھے۔مرکزی میڈیا ٹیم کے قیام کے بعد اکثر فون کر کے ہمارے ایک احمدی آدم واکر ہیں جوٹیم کے ممبر ہیں ان کی کوششوں کے متعلق دریافت کرتے اور اگر کبھی دیکھتے کہ کمی ہو رہی ہے تو بڑے جذباتی ہو کر کہتے کہ ہمیں کام کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔یہ کہتے ہیں کہ جلسے کی ڈیوٹیوں کے دوران نیند پوری نہ ہونے کے باوجود جب بھی وہ دفتر میں آتے تو ہم سب لوگوں سے زیادہ تازہ دم نظر آ رہے ہوتے تھے اور ان کی مثبت سوچ اور اس طبیعت کا سب پر اچھا اثر پڑتا۔رابطے بنانے میں بے تکلف تھے۔بلا جھجک بغیر کسی خوف کے رابطے کر لیتے تھے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ اپنی وفات سے بھی احمدیت کا پیغام میڈ یا تک پہنچانے کا ذریعہ بنے۔بی بی سی، آئی ٹی وی اور بلفاسٹ ٹیلیگراف وغیرہ نے ان کی وفات پر آرٹیکل شائع کئے۔معروف شخصیات نے سوشل میڈیا پر کمال صاحب کو خراج تحسین پیش کیا۔جماعت کے کاموں کو سراہا۔مثلاً آئی ٹی وی کی جرنلسٹ Heather کلارک کہتی ہیں کہ بطور صحافی مجھے الفاظ کی کمی نہیں ہونی چاہئے لیکن کمال صاحب کی وفات پر دلی افسوس ہے کہ اچھے لوگ دنیا سے اتنی جلدی رخصت ہو جاتے ہیں۔اب ہمیں ان کے نام اور کام کو زندہ رکھنا چاہئے۔اسی طرح آئی ٹی وی نیوز یارک شائر کی ہیڈ مارگریٹ کہتی ہیں کہ بہت اچھے مہربان انسان تھے۔ان کو دیکھ کر لگتا تھا کہ انہوں نے خوشی سے بھر پور زندگی گزاری۔ہم ان کو اپنے ٹی وی پر Tribute دیں گے۔صدر جماعت ہڈرزفیلڈ کہتے ہیں انتہائی اطاعت گزار تھے۔جماعت اور خلافت کے ساتھ جنون کی حد تک عشق تھا جس کو دیکھ کر آپ پر رشک آتا تھا۔نمازوں میں اور خصوصاً فجر کے بے حد پابند تھے۔خدمت خلق کا بیحد جذبہ تھا، شوق تھا اور کبھی رپورٹ میں دیر بھی ہو جاتی اور میں پوچھتا تو فوری طور پر معافی مانگتے۔ان کے چیریٹی ورک کی بھی غیر از جماعت بڑی تعریف کرتے ہیں۔یہ تو سارے ہی لکھ رہے ہیں