خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 492
خطبات مسرور جلد 13 492 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء دوسرا جنازہ مکرم محمد نعیم اعوان صاحب کا ہے جو مشتاق اعوان صاحب جرمنی کے بیٹے تھے۔36 سال کی عمر میں وہاں جرمنی میں دریائے رائن میں ڈوب کر ان کی وفات ہوئی۔ساتھ ہی ان کا بارہ سال کا ایک بیٹا تھا وہ بھی ڈوب گیا۔دونوں باپ بیٹا کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔نعیم اعوان صاحب 31 جولائی کو جرمنی گئے تھے۔آجکل یہاں رہتے تھے۔اپنی اہلیہ اور تین بچوں کے ساتھ والدین کو ملنے گئے اور وہیں تفریح کرتے ہوئے رائن کے ریلے کنارے کے قریب ہلکے پانی میں بچوں کے ساتھ نہا رہے تھے کہ دو بڑی کشتیاں فیری (ferry) وہاں سے گزریں تو اچانک پانی کی اونچی لہریں آئیں اور اونچی لہروں کا جور ملا تھا اس کی وجہ سے ان کی فیملی کے پانچ افراد اس ریلے کی زد میں آگئے اور پانی نے اپنے اندر کھینچ لیا لیکن موقع پر موجود ایک جرمن شخص نے تین افراد کو تو کوشش کر کے نکال لیا تا ہم جب نعیم صاحب نے اپنے بیٹے کو ڈوبتے ہوئے دیکھا تو اس کی جان بچانے کے لئے آپ نے چھلانگ لگائی یا آگے بڑھے، میرا خیال ہے شاید پانی میں پہلے ہی تھے لیکن دونوں باپ بیٹا پانی کی تیز لہروں میں بہہ گئے۔اگلے دن ان کے بیٹے کی نعش ملی۔ان کی نعش تو اس دن رات کو مل گئی تھی۔لیکن بیٹے کی اگلے دن ملی۔مرحوم مولوی محمد اسحاق صاحب آف قصور صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑنو ا سے اور مکرم مبارک علی اعوان شہید لاہور کے بھتیجے تھے۔جرمنی کی جماعت او زینگن (Usingen) میں بطور قائد مجلس کے خدمت کی توفیق ملی۔بیت الہدی او زینگن Usingen) کی تعمیر کے دوران وقار عمل میں غیر معمولی وقت دیا۔جنوری 2005ء میں اپنی فیملی سمیت یو کے آگئے۔یہاں بھی آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے فعال رکن تھے۔باقاعدگی سے مسجد میں نمازوں کے لئے آنا، سکیورٹی کی ڈیوٹی دینا اور اس کے علاوہ وقار عمل میں بھر پور حصہ لینا۔ان کو عمرہ کی سعادت بھی 2012ء میں ملی۔بڑے خوش اخلاق ملنسار انسان تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں عزيزة راضیه اعوان دس سال اور عزیزہ نتاشہ اعوان چودہ سال اور والدین اور تین چھوٹے بھائی اور بہن چھوڑے ہیں۔فاروق آفتاب جو خدام الاحمدیہ کے معتمد ہیں میں نے جو پہلے کمال آفتاب کے جنازے کا بتایا تھا ان کے بھائی ہیں۔یہ بھی کہتے ہیں کہ نعیم اعوان صاحب کو میں کئی سالوں سے جانتا تھا۔بہت خوش اخلاق، نیک اور دوسروں کی مدد کرنے والے انسان تھے۔کچھ عرصہ پہلے تک انہیں کافی مسائل کا سامنا تھا لیکن انہوں