خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد 13 481 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء تو یہ تھی آپ کی مہمان نوازی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے پہلے اس لئے کھایا تھا یا چکھا تھا بلکہ کھایا نہیں کہنا چاہئے ، دعا کے لئے ہی منہ سے لگایا ہو گا کہ آپ کی دعا کی برکت سے وہ سب کو پورا ہو جائے اور وہ پورا ہو گیا۔اسی طرح دعا سے کھانے میں برکت پڑنے کے اور بھی درجنوں واقعات ہیں جس سے پتا لگتا ہے کہ کس طرح آپ کے باقی کھانے پے، تھوڑے سے کھانے پے اور لوگ سیر ہوئے۔پھر بعض دفعہ مہمان بعض تکلیف دہ صورتحال بھی پیدا کر دیتے ہیں اور میزبان کا صبر کا جو دامن ہے وہ چھوٹ جاتا ہے۔ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن ایسی صورت میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا عظیم اور عجیب نمونہ تھا کہ ایک شخص رات مہمان رہتا ہے، پھر پیٹ کی خرابی کی وجہ سے یا دشمنی کی وجہ سے جان بوجھ کر بستر گندا کر دیتا ہے اور صبح صبح اٹھ کر چلا جاتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی بجائے اسے کچھ کہنے کے، کچھ اعتراض کے فوری طور پر خود ہی اس کے بستر کو دھونے لگ جاتے ہیں۔غرض کہ جس حد تک جا کر مہمان کا حق ادا کرنا ہو سکتا ہے وہ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ میں نظر آتا ہے ، آپ کی سیرت میں نظر آتا ہے۔جب آپ نے اپنا یہ اسوہ دکھایا تو اسی کا نتیجہ ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم کی زندگی میں بھی ہمیں مہمانوں کی خاطر قربانیوں کے نمونے نظر آتے ہیں۔وہ واقعہ بھی اپنی مثال آپ ہے جس کو جب بھی پڑھو ایک نیا لطف آتا ہے کہ جب ایک صحابی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کے لئے اپنے بچوں کو تو بہلا پھسلا کر بھوکا سلا دیتے ہیں اور خود بھی بھوکے رہتے ہیں لیکن مہمان کو کسی قسم کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ایک انصاری کہتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہمان میرے سپرد کیا تو میں نے گھر آ کر بیوی سے پوچھا کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا بس تھوڑا سا کھانا ہے جو بچوں کے لئے رکھا ہوا ہے۔دونوں نے مشورہ کیا کہ بچوں کو تو کسی طرح سلا دیا جائے۔پھر مہمان کے سامنے کھانا لاؤ اور کسی بہانے سے چراغ بجھا دو۔چنانچہ مہمان کے سامنے کھانا لا یا گیا اور اسی طرح اپنی چادر ہلا کر گھر والی نے اس چراغ کو بجھا دیا اور پھر یہ بھی فیصلہ ہوا کہ ہم اس طرح ظاہر کریں گے کہ ہم بھی اس اندھیرے میں کھانا کھا رہے ہیں کیونکہ اگر اس طرح نہ کیا تو ہوسکتا ہے مہمان کا ہاتھ بھی رک جائے اور وہ صحیح طرح نہ کھا سکے۔کھانا تھوڑا سا تھا۔بہر حال اس تدبیر سے انہوں نے مہمان کو کھانا کھلایا۔مہمان نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔اگلے دن جب یہ انصاری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ہنس کر فرمایا کہ تمہارا اس تدبیر سے مہمان کو کھانا کھلانا ایسا تھا