خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 480
خطبات مسرور جلد 13 480 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء باعث ہے۔اسلام نے اس لئے اکرام ضیف کی بہت تلقین کی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو غیر معمولی خوبیاں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو نظر آئیں اور جن کا ذکر حضرت خدیجہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی وحی کے بعد آپ کی گھبراہٹ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور عرض کیا کہ ان خوبیوں کے حامل کو خدا تعالیٰ ضائع نہیں کر سکتا۔ان میں سے ایک خوبی یہ بھی بیان کی کہ خدا تعالیٰ کس طرح آپ کو ضائع کر سکتا ہے ( جبکہ ) آپ میں تو مہمان نوازی کا وصف بھی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔(صحیح البخاری کتاب بدء الوحي باب كيف كان بدء الوحي الى رسول الله صلى الله علیه و سلم حدیث نمبر (3) اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں ایک دو، پانچ دس نہیں سینکڑوں بلکہ اس سے بھی زیادہ مثالیں ہیں ایسے واقعات ہیں جو آپ کے اکرام ضیف اور مہمان نوازی کے اعلیٰ ترین معیاروں کو چھور ہے ہیں اور پھر اپنے صحابہ اور اپنی امت کو بھی آپ نے یہ اسلوب سکھائے۔صحابہ کے بھی ایسے واقعات ہیں جن کو پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح غیر معمولی قربانی کر کے وہ مہمان نوازی کرتے تھے اور پھر اللہ تعالیٰ بھی ان کی مہمان نوازی میں کس طرح برکت ڈالتا تھا اور سرا ہتا تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جب زیادہ مہمان آتے تو ہر ایک کو کچھ مہمان تقسیم کر دیتے اور اپنے حصے کے مہمان بھی رکھتے اور پھر خود ان کی مہمان نوازی بھی فرماتے۔ایسے ہی ایک موقع پر جب آپ نے مہمانوں کو تقسیم کر دیا تو جب زیادہ مہمان آ گئے تو اپنے حصے کے مہمان بھی رکھے۔ایک صحابی عبداللہ بن طیفہ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر میں ان مہمانوں میں سے تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئے۔آپ ہمیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ گھر میں کچھ کھانے کو ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ کچھ تھوڑ اسا حریر ہے جو میں نے آپ کے لئے رکھا ہوا تھا۔اس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے بھی تھے۔یہ تھوڑا سا کھانا آپ کی افطاری کے لئے تھا۔بہر حال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر حضرت عائشہ وہ برتن میں ڈال کر لائیں۔آپ نے اس میں سے تھوڑ اسالیا شاید ایک آدھ گھونٹ لیا یا لقمہ کھایا اور مہمانوں کو کہا کہ بسم اللہ پڑھ کرکھا ئیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اسے اس طرح کھا رہے تھے کہ اسے دیکھ نہیں رہے تھے اور سب سیر ہو گئے۔پھر آپ نے پوچھا پینے کو کچھ ہے تو وہ پینے کے لئے کچھ مشروب لا ئیں۔آپ نے اس میں سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا کہ بسم اللہ کر کے پئیں۔پھر ہم نے اسے پیا اور اسی طرح پیا کہ اسے دیکھ نہیں رہے تھے اور پھر ہم اچھی طرح سیر ہو گئے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحه 95-794 حدیث طهفه الغفاری حدیث نمبر 24015 عالم الكتب بيروت 1998ء)