خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 482

خطبات مسرور جلد 13 482 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 اگست 2015ء کہ خدا تعالیٰ بھی اس پر ہنسا۔(صحيح البخاری کتاب مناقب الانصار باب قول الله ويؤثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة حديث نمبر 3798) پس یہ مہمان نوازی اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اس کی اطلاع دی۔یہ صحابہ اپنی ذات پر بلکہ اپنے بچوں پر بھی مہمانوں کو ترجیح دینے والے تھے۔یقیناً ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر کے دونوں جہان کی نعمتوں کے وارث بنتے ہیں۔یہ جذ بہ صحابہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے اسوہ کو دیکھ کر پیدا ہوا اور آپ کی تعلیم سے پیدا ہوا۔ایک روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کا احترام کرے۔(المعجم الكبير للطبرانی جلد 5 صفحه 233 باب الزاى عبد الرحمن بن ابی عمرة عن زيد بن خالد حدیث نمبر 5187 دار احیاء التراث العربي 2002ء) پس یہ معیار ہیں ایک مومن ہونے کے لئے۔جب ایمان کامل ہونے کی طرف قدم بڑھیں گے تو خدا تعالیٰ کی رضا بھی شامل حال ہوگی اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہوتی ہے تبھی دونوں جہاں کی نعمتوں سے انسان فیضیاب ہو سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب مہمان سپر د کرتے تھے تو پھر مہمانوں سے دریافت بھی فرمایا کرتے تھے کہ کیسی مہمان نوازی ہوئی۔ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ قبیلہ عبدالقیس کے مہمانوں کا وفد حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو ان کی مہمان نوازی کا ارشا د فرمایا۔چنانچہ انصار ان کو اپنے ساتھ لے گئے۔صبح جب وہ لوگ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ رات تمہارے میز بانوں نے تمہاری کیسی خدمت کی ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ بڑے اچھے لوگ ہیں۔انہوں نے ہمارے لئے نرم بستر بچھائے۔ہمارے آرام کا خیال رکھا۔ہمیں عمدہ کھانے کھلائے اور پھر کتاب وسنت کی تعلیم بھی دیتے رہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحه 119-118 حدیث و فد عبد القیس حدیث نمبر 17985 عالم الكتب بيروت 1998ء)