خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 457

خطبات مسرور جلد 13 457 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء جہاں تک اولاد ہونے اور اس کے زندہ رہنے کا تعلق تھا یہ پیشگوئی تو پوری ہوئی اور ایک بیٹے کا نام محمو در کھنے کی تو فیق بھی آپ کو لی۔مگر دنیا انتظار کر رہی تھی کہ پیشگوئی کس لڑکے کے متعلق ہے؟ چنانچہ آج میں یہی بتانے کے لئے لدھیانہ آیا ہوں (آپ لدھیانہ گئے تھے )۔آپ فرماتے ہیں کہ لدھیانہ کے ساتھ جماعت احمدیہ کا کئی رنگ میں تعلق ہے۔لدھیانہ کی جو اہمیت جماعت کی تاریخ کے ساتھ ہے اس کے کئی پہلو ہیں۔فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلی بیعت اسی شہر میں لی۔(ایک تعلق) آپ کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب آپ کے پہلے خلیفہ ہوئے اور ان کی شادی لدھیانہ میں ہی حضرت منشی احمد جان صاحب مرحوم کے ہاں ہوئی تھی ( یہ دوسرا تعلق ) اور اس پیشگوئی میں جس لڑکے کا تعلق ہے وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس بیوی کے بطن سے پیدا ہوا جولدھیانہ میں بھی رہی ہیں۔( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) مجھے یاد ہے کہ بچپن میں کچھ عرصہ میں یہاں بھی رہا ہوں۔میں اس وقت اتنا چھوٹا تھا کہ مجھے کوئی خاص باتیں تو اس زمانے کی یاد نہیں ہیں کیونکہ اس وقت میری عمر دو اڑھائی سال کی تھی۔(اب دیکھیں اس عمر میں بھی بعض باتیں جو یاد ہیں عموماً یاد نہیں رہتیں لیکن آپ وہ باتیں بھی بیان کر رہے ہیں۔فرماتے ہیں کہ ) صرف ایک واقعہ یاد ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جس مکان میں رہتے تھے وہ سڑک کے سر پر تھا اور سیدھی سڑک تھی۔میں اپنے مکان سے باہر آیا تو ایک چھوٹا سا لڑکا دوسری طرف سے آ رہا تھا۔اس نے میرے پاس آکر ایک مری ہوئی چھپکلی مجھ پر پھینکی۔میں اس قدر دہشت زدہ ہوا کہ روتا ہو اگھر کی طرف بھاگا۔اس بازار کا نقشہ مجھے یاد ہے۔وہ سیدھا بازار ہے گواب میں نہیں جانتا کہ وہ کونسا تھا۔ہمارا مکان ایک سرے پر تھا۔تو میں نے کئی ماہ اپنے بچپن کی عمر کے یہاں گزارے ہیں۔پس اس شہر کا کئی رنگ میں احمدیت کے ساتھ تعلق ہے۔(ماخوذ از اہالیان لدھیانہ سے خطاب۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 257 تا 259) حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اس شہر کی بڑی خصوصیت ہے جیسا کہ بیان کی ہوئی باتوں سے ظاہر ہے۔لیکن فرماتے ہیں کہ میں سوچ رہا تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جن باتوں کا اعلان کیا جاتا ہے ان کی مخالفت لوگ ضرور کرتے ہیں اور پیشگوئی مصلح موعود کا اعلان کیا گیا تھا۔لاہور میں لدھیانہ سے پہلے جلسہ ہو گیا تھا، ہوشیار پور میں ہو گیا تھا لیکن مخالفت نہیں ہوئی تھی۔تو فرماتے ہیں کہ باوجود میرے اس اعلان کے بعد کہ یہ پیشگوئی پوری ہو چکی ہے ، میرے پر مخالفت نہیں ہوئی تھی۔معلوم نہیں کسی نے مخالفت کیوں نہیں کی۔لیکن لدھیا نہ آئے۔کہتے ہیں یہاں آ کر جب میں شہر میں سے گزر رہا تھا تو لوگوں کا جلوس نعرے لگا تا ہوا