خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 456

خطبات مسرور جلد 13 456 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء پاس پہنچا تو ان کی روح بھی پرواز کر چکی تھی۔تو یہ عکرمہ ابو جہل کے لڑکے تھے۔پس اگر کوئی شخص شریر ہو، بے دین ہو اور جھوٹا ہو تو کون کہہ سکتا ہے کہ اس کا بیٹا بھی ضرور اس جیسا ہی ہوگا۔مگر خدا تعالیٰ کے کلام میں ایسی شہادتیں ہوتی ہیں جو اس کی صداقت کو واضح کر دیتی ہیں اور جس میں شہادت نہ ہو وہ ماننے کے قابل ہی نہیں ہوتا۔اصل چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جو پینگوئیاں ہوتی ہیں وہ کس طرح پوری ہوتی ہیں حالانکہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھی، رؤیا دیکھا تو آپ بڑے پریشان ہوئے تھے کہ یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ابو جہل جنت میں ہو اور میں اس کو انگوروں کا خوشہ دے رہا ہوں۔تو اس سے مراد اصل میں یہی تھی کہ ان کے بیٹے ایمان لے آئیں گے اور اسلام کی خاطر غیر معمولی قربانی کریں گے۔حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی میں بھی ( یعنی مصلح موعود والی پیشگوئی میں بھی ) دوسری پیشگوئیوں کی طرح بہت سی شہادتیں موجود ہیں۔آپ نے ایسے وقت میں جب قادیان کے لوگ بھی آپ کو نہ جانتے تھے یہ پیشگوئی فرمائی۔قادیان کے کئی بوڑھے لوگوں نے سنایا ہے کہ ہم آپ کو جانتے ہی نہ تھے۔ہم سمجھا کرتے تھے کہ غلام مرتضی صاحب کا ایک ہی لڑکا ہے جس کا نام مرزا غلام قادر ہے۔تو ایسا شخص جو خود گمنام ہو، جسے اس کے گاؤں کے لوگ بھی نہ جانتے ہوں، یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اولا د دے گا جو زندہ بھی رہے گی اور اس کے لڑکوں میں سے ایک لڑکا ایسا ہوگا جو دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا اور اس کے ذریعہ اس کی تبلیغ بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گی۔کون ہے جو اپنے پاس سے ایسی بات کہہ سکے۔پھر آپ نے فرمایا کہ وہ لڑکا تین کو چار کرنے والا ہو گا۔اس کے یہ معنی بھی تھے کہ وہ اس پیشگوئی سے چوتھے سال میں پیدا ہوگا۔چنانچہ آپ نے یہ پیشگوئی 1886ء میں کی اور ( حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں کہ ) میری پیدائش 12 جنوری 1889ء (eighteen eighty-nine) میں ہوئی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 23 مارچ 1889ءکولدھیانہ میں پہلی بیعت لی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس پیشگوئی کا ہماری جماعت میں بھی اور باہر بھی بہت چرچا ہے۔عموماً یہ سوال کیا جاتا تھا کہ وہ لڑکا کون ہے؟ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ پیشگوئی میں اس لڑکے کا نام محمود بھی بتایا گیا تھا اس لئے بطور تفاؤل کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے میرا نام محمود بھی رکھا۔اور چونکہ اس کا نام بشیر ثانی بھی تھا اس لئے میرا پورا نام بشیر الدین محمود احمد رکھا۔