خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 903

خطبات مسرور (جلد 13۔ 2015ء) — Page 458

خطبات مسرور جلد 13 458 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 31 جولائی 2015ء گزر رہا تھا کہ نعوذ باللہ مرزا مر گیا، مرزا مر گیا۔تو بہر حال ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو بھلانے کی وجہ سے یہ استہزاء کیا ہے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری چمک کے ساتھ پوری ہوئی ہے۔آگے حضرت مصلح موعودؓ نے یہ دعا بھی کی ہے کہ اللہ کرے کہ لدھیانہ کے لوگوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی توفیق بھی عطا ہو اور آج جو مخالفت میں نعرے لگا رہے ہیں کل حق میں نعرے لگانے والے ہوں۔(ماخوذ از اہالیان لدھیانہ سے خطاب۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 260) آپ کے ایک صحابی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی کے عشق اور تعلق کا ذکر کرتے ہوئے آپ ( حضرت مصلح موعود ) بیان فرماتے ہیں کہ میاں عبداللہ صاحب سنوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اپنے اندر ایسا ہی عشق رکھتے تھے۔ایک دفعہ وہ قادیان میں آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام - ملے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان سے کوئی کام لے رہے تھے۔اس لئے جب میاں عبداللہ صاحب سنوری" کی چھٹی ختم ہو گئی اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جانے کے لئے اجازت طلب کی تو حضور نے فرمایا ابھی ٹھہر جاؤ۔چنانچہ انہوں نے مزید رخصت کے لئے درخواست بھجوادی مگر محکمے کی طرف سے جواب آیا کہ اور چھٹی نہیں مل سکتی۔انہوں نے اس امر کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ذکر کیا تو آپ نے پھر فرمایا کہ ابھی ٹھہر و۔چنانچہ انہوں نے لکھ دیا کہ میں ابھی نہیں آسکتا۔اس پر محکمے والوں نے انہیں dismiss کر دیا۔(سرکاری محکمہ تھا ) چار یا چھ مہینے جتنا عرصہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں رہنے کے لئے کہا تھا وہ یہاں ٹھہرے رہے۔پھر جب واپس آ گئے تو محکمے نے یہ سوال اٹھا دیا کہ جس افسر نے انہیں dismiss کیا تھا اس افسر کا یہ حق ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں dismiss کرتا۔چنانچہ وہ پھر اپنی جگہ پر بحال کئے گئے اور پچھلے مہینوں کی جو قادیان میں گزار گئے تھے تنخواہ بھی مل گئی۔اسی طرح ایک اور مثال آپ نے دی۔منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی کے ساتھ واقعہ پیش آیا۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ میں ڈلہوزی کا سفر کر رہا تھا۔کل رستے میں مجھے میاں عطاء اللہ صاحب وکیل نے یہ سنایا۔یہ واقعہ الحکم میں بھی 1934ء میں پہلے چھپ چکا ہے۔( حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ) اس لئے میں منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اسے بیان کر دیتا ہوں۔کہتے ہیں کہ میں جب سر رشتہ دار ہو گیا اور پیشی میں کام کرتا تھا تو ایک دفعہ مسلیں وغیرہ بند کر کے قادیان چلا آیا۔